نوشکی میں عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے: حکام

Share

پولیس نے بدھ کو بتایا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے شہر نوشکی میں ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال کرتے ہوئے تین دن بعد عسکریت پسندوں سے کنٹرول واپس حاصل لیا جبکہ اس دوران  سکیورٹی فورسز کے 17 اہلکاروں اور 31 عام شہریوں کی اموات ہوئیں۔

ہفتے (31 جنوری) کو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مربوط حملوں کی لہر نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کو تقریباً بند کر دیا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے 12 سے زائد مقامات پر ہونے والے ان حملوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 197 عسکریت پسندوں کو مار دیا۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع مرکزی انتظامی عمارت کے قریب رہائش پذیر خاتون روبینہ علی نے روئٹرز کو بتایا: ’میں نے سوچا کہ میرے گھر کی چھت اور دیواریں پھٹ جائیں گی۔‘ صبح سویرے ایک زوردار دھماکے نے اس علاقے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

بی ایل اے کے عسکریت پسندوں نے اپنی اب تک کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک کے دوران بلوچستان بھر میں سکولوں، بینکوں، مارکیٹوں اور سکیورٹی تنصیبات پر حملے کیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس حکام نے صورت حال کی تفصیلات نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائیں کیونکہ انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

تقریباً 50 ہزار آبادی والے صحرائی شہر نوشکی میں عسکریت پسندوں نے پولیس سٹیشن اور دیگر سکیورٹی تنصیبات پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد تین روزہ محاصرہ شروع ہوا۔

پولیس کے مطابق پیر کی شام شہر کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے تک فورس کے سات افسر لڑائی میں جان سے گئے جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بی ایل اے کے خلاف آپریشن جاری ہیں۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا: ’نوشکی میں مزید افواج بھیجی گئیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’باغیوں کے خلاف ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز استعمال کیے گئے۔‘

پاکستان کی داخلہ وزارت نے فوری طور پر روئٹرز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

معدنیات سے مالا مال پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان، ایران اور افغانستان سے متصل ہے اور گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ اور دیگر منصوبوں میں چین کی سرمایہ کاری کا مرکز ہے۔

یہ صوبہ صدیوں پر محیط علیحدگی پسند تحریک کا شکار رہا ہے، جو زیادہ خودمختاری اور قدرتی وسائل میں بڑا حصہ چاہتے ہیں۔

بی ایل اے، جس نے صوبے کے عوام سے تحریک کی حمایت کی اپیل کی ہے، نے منگل کو کہا کہ اس کے آپریشن ’ہیروف‘ بلیک سٹورم کے دوران 280 فوجی جان سے گئے، لیکن اس کے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے۔

سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق ہفتے کے روز حملے صبح 4 بجے نوشکی اور پسنی میں خودکش دھماکوں سے شروع ہوئے جبکہ 11 مزید مقامات پر فائرنگ اور دستی بم حملے کیے گئے، جن میں کوئٹہ بھی شامل تھا۔

پولیس حکام کے مطابق عسکریت پسندوں نے محاصرے کے دوران ضلعی انتظامیہ کے کم از کم چھ دفاتر پر قبضہ کر لیا اور ایک موقعے پر وہ کوئٹہ میں صوبائی وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئے تھے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سمارٹ فونز سے جیٹ انجن تک میں شامل معدنیات کے لیے ٹرمپ کا نیا منصوبہ

بدھ فروری 4 , 2026
Share امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ہوائی جہازوں کے انجنوں سے لے کر سمارٹ فونز تک استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی سپلائی چین کو ازسرِنو تشکیل دینے کے لیے اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ پیش کرنے جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت چین کی بالادستی […]

You May Like