امریکی فوج نے کامیابی کے ساتھ ایک چھوٹے ایٹمی ری ایکٹر کو ہوائی جہاز کے ذریعے منتقل کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ملک بھر میں اس توانائی کے نظام کو تعینات کرنے کے منصوبے پر پیش قدمی کر رہی ہے۔
’اگلی نسل‘ کا ویلر آٹومکس وارڈ 250 نیوکلیئر ری ایکٹر، جس کا حجم ایک بڑے ٹرک کے برابر ہے، اتوار کو کیلی فورنیا میں مارچ ایئر ریزرو بیس پر ایک سی – 17 ٹرانسپورٹ طیارے میں لوڈ کیا گیا۔
بعد ازاں اسے تقریباً 700 میل دور ہل ایئر فورس بیس، یوٹا لے جایا گیا۔ پینٹاگون کے مطابق اسے بالآخر ریاست میں موجود ایک توانائی لیب میں جانچ اور تجزیے کے لیے بھیجا جائے گا۔
یہ کمپیکٹ پانچ میگاواٹ کا ری ایکٹر ممکنہ طور پر پانچ ہزار گھروں کو بجلی فراہم کر سکتا ہے یا کسی فوجی اڈے کے لیے محفوظ اور قابل اعتماد توانائی مہیا کر سکتا ہے۔
ری ایکٹر کی یہ پرواز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے مطابق ہے جس کا مقصد امریکہ کے نیوکلیئر پاور انفراسٹرکچر کو جدید بنانا ہے۔
ایک ایسا ہدف جسے مئی میں ان کے دستخط کردہ متعدد ایگزیکٹیو آرڈرز نے مزید تقویت دی۔
ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے ’ریاست ہائے متحدہ کی پالیسی یہ ہے کہ امریکی عوام کو سستی، قابل اعتماد، محفوظ اور محفوظ توانائی فراہم کرنے کے لیے ایٹمی توانائی کی پیداوار اور اس کے آپریشن کو ممکن حد تک تیز اور فروغ دیا جائے۔‘
دفاعی شعبے میں حصول و معاونت کے انڈر سیکریٹری مائیکل ڈفی نے اس آپریشن کو سراہا، جو محکمہ دفاع اور محکمہ توانائی نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا ’اگلی نسل کی جنگی صلاحیت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مخالفین سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھیں، ایسا نظام قائم کریں جو نہ صرف ہمارے فوجیوں کو جنگ کے لیے تیار کرے بلکہ انہیں غیر معمولی رفتار سے جیتنے کے قابل بنائے۔
’آج اس نظام کی تعمیر کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ صنعتی شعبے اور اس کی اختراع کی صلاحیت کی حمایت کر کے ہم وہاں مؤثر توانائی کی فراہمی تیز کرتے ہیں جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
وزیر توانائی کریس رائٹ نے مزید کہا کہ انتظامیہ کا ہدف چار جولائی تک تین چھوٹے ری ایکٹرز کو فعال کرنا ہے۔
انہوں نے کہا ’امریکی ایٹمی بحالی (nuclear renaissance) کا مقصد اس عمل کو دوبارہ، تیزی اور احتیاط کے ساتھ، آگے بڑھانا ہے اور وہ بھی نجی سرمایہ، امریکی جدت اور عزم کے ساتھ۔‘

