ایران پر اسرائیلی حملے خطے میں بدامنی کے لیے بڑا منصوبہ ہے: افغان طالبان

Share

افغان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی-امریکی حملہ دراصل اس خطے کو بدمنی میں دھکیلنے کا بین الاقوامی منصوبہ ہے۔ 

ذبیح اللہ مجاہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ اور امریکہ کی جانب سے اس کی پشت پناہی دراصل اس خطے میں بد امنی کو ہوا دینے کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق: ’اسرائیل کا ایران پر حملہ اور رد عمل میں ایران کے حملے دراصل خطے میں بدامنی پھیلانے کی کڑی ہے جس کی پشت پناہی امریکہ کر رہا ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کے حوالے سے ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر حملے میں اس خطے کو بدامنی کے منصوبے کا حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا: ’یہ اس خطے میں موجود ممالک کی جنگ نہیں ہے اور نہ پاکستان افغانستان کے درمیان جنگ یہاں کے عوام اور ملکوں کی جنگ نہیں بلکہ یہ بڑے طاقتوں کی جنگ ہے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ اس خطے کو دوبارہ بدامنی اور جنگ میں دھکیلنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ دو دنوں سے سرحدوں پر کشیدگی برقرار ہے اور دونوں جانب سے جانی و مالی نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کا کہنا ہے کہ 22 فروری سے افغانستان پر پاکستانی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 52 شہری جان سے گئے اور 66 زخمی ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستانی فوج نے قندھار میں واپس آنے والوں کے ایک عارضی کیمپ پر بمباری کی، جس میں تین واپس آنے والے مزدور تھے، مارے گئے اور سات دیگر زخمی ہوئے۔

انجرگی کیمپ قندھار میں ڈیورنڈ لائن کے قریب واقع ہے اور واپس آنے والوں کے لیے ایک عارضی پناہ گاہ ہے۔

فطرت نے فیس بک پر لکھا کہ جمعے کی رات صوبہ کنڑ کے اسد آباد شہر کے مرکز پر توپ خانے سے فائر کیا گیا، جس میں سات شہری مارے گئے اور ایک زخمی ہوا۔ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ پکتیکا میں شہریوں کے مکانات پر پاکستانی ملیشیا کے تازہ حملے میں تین افراد مارے گئے اور آٹھ زخمی ہوئے ہیں۔

یہ کشیدگی تب شروع ہوئی جب گذشتہ دنوں پاکستان نے افغانستان کے پکتیا، خوست سور ننگرہار میں تحریک طالبان پاکستان اور داعش کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی تھی۔ 

اس کے جواب میں 26 فروی کی شب افغانستان نے سرحدوں پر پاکستانی چوکیوں پر بمباری کی، جس کے جواب میں پاکستان نے کابل اور قندہار میں پاکستان کے وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔

ادھر ایک بیان میں یورپی یونین نے طالبان حکومت اور پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان تشدد اور دشمنی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران افغانستان اور پاکستان میں تشدد، سرحد پار سے حملوں اور فضائی حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے خطے کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

یورپی یونین نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کو دھمکیاں دینے یا حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور موجودہ افغان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے اندر یا وہاں سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر اقدامات کریں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

مصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش: دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟

منگل مارچ 3 , 2026
Share  ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اہم سمندری گزر گاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام بحری جہازوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔ اس مصروف تجارتی آبی گزرگاہ کی بندش کے اثرات دنیا کے […]

You May Like