’ہم نے میزائل آتے جاتے دیکھے‘: ایران سے واپس لوٹنے والے پاکستانی

Share

سوٹ کیس اور دوسرا سامان اٹھائے کئی پاکستانی شہری ہمسایہ ملک ایران سے سرحد پار کر کے وطن واپس آ رہے ہیں، جہاں میزائلوں کے حملوں کے خطرات کے باعث مزید قیام ممکن نہیں ہے۔

ایران میں موجود پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی تین روز قبل امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع کرنے کے بعد سے ملک چھوڑنے کی کوششیں کر رہے تھے۔  

اے ایف پی کے صحافیوں نے پاکستان کے مغربی صوبہ بلوچستان میں ایران کے میرجاوہ اور تفتان کے درمیان دور دراز سرحدی کراسنگ پر بڑے دھاتی دروازوں سے گزرتے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھا۔  

ہفتے سے ایران کے دارالحکومت تہران میں زور دار دھماکوں سے مچنے والی ہلچل کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کو کہا ہے۔

38 سالہ تاجر امیر محمد نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا، ’ہمارے تمام پاکستانی بھائی جو تہران اور دیگر شہروں میں تھے، نکلنا شروع ہو گئے تھے اور ٹرمینل پر پہنچ رہے تھے، جس کی وجہ سے ہجوم کا بہت زیادہ دباؤ تھا۔

’ہجوم کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے بڑے مسائل تھے۔‘

تفتان کی الگ تھلگ سرحد بلوچستان کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر کوئٹہ سے تقریباً 500 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اے ایف پی کے صحافیوں نے دیکھا کہ ایرانی پرچم نصف لہرا رہا ہے جبکہ سپاہی پہرے پر کھڑے تھے۔

زیادہ تر لوگ فرنٹیئرز فٹ کراسنگ پر بھاری سامان کو ہتھ گاڑیوں میں لے جا رہے تھے، جبکہ مال بردار لاریوں کی ایک لمبی لائن دیکھی جا سکتی تھی۔  

49 سالہ ارشاد احمد نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ تہران کے ایک ہاسٹل میں مقیم تھے جب انہوں نے قریب سے میزائل داغتے ہوئے دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہاسٹل کے قریب ایک آرمی بیس تھی اور ہم نے بہت سے میزائل فائر ہوتے دیکھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کے بعد ہم پاکستانی سفارت خانے گئے تاکہ وہ ہمیں وہاں سے نکال سکیں۔ وہ ہمیں بحفاظت یہاں لے آئے ہیں۔‘

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل بین الاقوامی قوانین کی ’خلاف ورزی‘ ہے۔

شہباز شریف نے ایکس پر لکھا کہ ’یہ ایک پرانی روایت ہے کہ سربراہان مملکت/حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے عوام غم اور دکھ کی گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ ہیں اور خامنہ ای کی شہادت پر انتہائی دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔‘

ثاقب، جو تہران کے پاکستانی سفارت خانے میں استاد ہیں نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمارے جانے سے پہلے حالات معمول پر تھے۔ حالات اتنے خراب نہیں تھے۔‘

38 سالہ نوجوان نے کہا کہ ہفتہ کو تہران پر حملوں نے ’ہمیں شہر چھوڑنے پر مجبور کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہفتے کی رات حالات خراب ہو گئے، جب حملوں میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایران پر حملہ: صدر ٹرمپ کے خلاف کانگریس اور عوام میں مخالفت شدت اختیار کر گئی

بدھ مارچ 4 , 2026
Share امریکہ میں صدر ٹرمپ کی ایران پر فوجی حملوں کے خلاف سیاسی اور عوامی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ خود صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت رپبلکن پارٹی کے ارکان نے بھی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی ہے جب کہ عوامی رائے عامہ کے جائزوں […]

You May Like