پاکستان بحریہ کا سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ’آپریشن محافظ البحر‘

Share

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ نے آپریشن محافظ البحر‘ کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد قومی جہاز رانی اور تجارت کو لاحق خطرات سے نمٹنا ہے۔

آئی ایس پی آر نے پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ’علاقائی میری ٹائم سکیورٹی کے بدلتے ہوئے ماحول اور اہم سمندری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں‘ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے پڑوس میں واقع ایران پر امریکہ اور اسرائیل بمباری کر رہے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی ملکوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز کئی دنوں سے بند ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام قومی توانائی کی فراہمی کے بلاتعطل بہاؤ اور سمندری راستوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا: ’پاک بحریہ کے سکارٹ آپریشنز پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے کیے جا رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق: ’پاک بحریہ موجودہ سمندری صورت حال سے پوری طرح باخبر ہے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ان کی نقل و حرکت کی فعال نگرانی اور کنٹرول کر رہی ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ چونکہ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد تجارت سمندر کے راستے ہوتی ہے، اس لیے اس آپریشن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اہم سمندری راستے محفوظ اور بلاتعطل رہیں۔

بیان میں بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان بحریہ کے جہاز دو تجارتی جہازوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق ’پاک بحریہ ابھرتے ہوئے میری ٹائم سکیورٹی چیلنجز کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور قومی جہاز رانی کی حفاظت اور علاقائی سمندری سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایران جنگ: پاکستانی ماہی گیر کی بحیرہ عرب میں ڈرون ملبہ گرنے سے موت

جمعرات مارچ 12 , 2026
Share ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران بلوچستان کے ساحلی قصبے جیونی کے علاقے گنز سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ماہی گیر طیب بلوچ بحیرہ عرب میں ایران اور پاکستان کی سمندری حدود کے قریب ڈرون کے ملبے کے ٹکڑے لگنے سے جان سے گئے۔ 28  فروری کو امریکہ اور […]

You May Like