آسٹریلیا: 5 نہتے افغانوں کو گولی مارنے کا الزام، سابق فوجی پر فرد جرم عائد

Share

آسٹریلیا میں ایک سابق فوجی پر منگل کو جنگی جرائم کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2009 سے 2012 کے درمیان افغانستان میں تعیناتی کے دوران پانچ غیر مسلح افغانوں کو خود قتل کیا یا اپنے ماتحت فوجیوں کو انہیں گولی مارنے کا حکم دیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کی عمر 47 سال ہے، تاہم ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ تاہم آسٹریلین میڈیا میں ان کا نام بین رابرٹس سمتھ لیا جا رہا ہے۔ انہیں آج سڈنی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

یہ آسٹریلیا کی افغانستان مہم سے وابستہ دوسرا سابق فوجی ہے جس پر جنگی جرم کا مقدمہ چل رہا ہے۔

اس سے قبل خصوصی فضائی خدمات کے سابق اہلکار 44 سالہ اولیور شلز جنگی جرم کے تحت قتل کے الزام میں بے قصور ہونے کی درخواست دے چکے ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مئی 2012 میں افغانستان کے صوبہ اروزگان کے ایک گندم کے کھیت میں افغان شہری داد محمد کو سر میں تین گولیاں مار کر قتل کیا۔

جنگی جرم کے تحت قتل کی سزا آسٹریلیا میں عمر قید ہے۔ یہ ایک وفاقی جرم ہے، جس کی تعریف کے مطابق مسلح تنازعے کے دوران ایسے شخص کو دانستہ طور پر مارنا جو لڑائی میں حصہ نہیں لے رہا، جیسے کہ عام شہری، جنگی قیدی یا زخمی فوجی۔

آسٹریلوی وفاقی پولیس کمشنر کرسی بیریٹ کے مطابق منگل کو پولیس نے دوسرے ملزم کو برسبین سے آنے والی پرواز پر سڈنی ایئرپورٹ پر گرفتار کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ مبینہ طور پر مقتولین قتل کے وقت کسی لڑائی میں ملوث نہیں تھے۔ مقتولین غیر مسلح تھے، حراست میں تھے اور آسٹریلوی دفاعی فورس کے اہلکاروں کے کنٹرول میں تھے۔

بیریٹ کے مطابق یہ بھی الزام ہے کہ مقتولین  کو یا تو ملزم نے خود گولی ماری یا اپنے ماتحت اہلکاروں کو گولی چلانے کا حکم دیا۔

یہ الزامات 2020 میں جاری ہونے والی اس فوجی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں شواہد ملے تھے کہ آسٹریلوی خصوصی دستوں کے اہلکاروں نے 39 افغان قیدیوں، کسانوں اور دیگر غیر جنگجو افراد کو غیر قانونی طور پر قتل کیا۔

بیریٹ نے کہا کہ نئے الزامات بہت کم تعداد میں ملوث فوجیوں سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی آسٹریلوی دفاعی فورس کے صرف ایک چھوٹے سے حصے سے متعلق ہے، جبکہ اکثریت ملک کی خدمت ایمان داری، فرض شناسی اور جمہوری اقدار کےتحت انجام دیتی ہے۔

جنگی جرائم کی ان تحقیقات کے لیے سپیشل انویسٹیگیٹر کے دفتر کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جو پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

دفتر کے ڈائریکٹر آف انویسٹیگیشنز راس بارنیٹ کے مطابق 53 مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی گئیں جن میں سے 39 کا اختتام بغیر فرد جرم کے ہوا۔

2001 سے 2021 تک افغانستان میں تقریباً 40 ہزار آسٹریلوی فوجیوں نے خدمات انجام دیں، جن میں سے 41 مارے گئے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

لیبیا کشتی حادثے میں لاپتہ خیبر کے راشد آفریدی: ’بہتر مستقبل کی امید لیے گئے تھے‘

منگل اپریل 7 , 2026
Share لیبیا کے ساحل پر اٹلی کے حکام کے مطابق پانچ اپریل کو حادثے کا شکار ہونے والی تارکینِ وطن کی کشتی میں تقریباً 105 افراد سوار تھے، جن میں سے 32 کو بچا لیا گیا ہے، جن کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش اور مصر سے ہے۔ لاپتہ تارکینِ وطن […]

You May Like