’یلو کیک‘: وہ دھات جس نے ایران کو عالمی طاقتوں کے مدمقابل کھڑا کر دیا

Share

واشنگٹن مذاکرات میں ایران سے سینکڑوں کلوگرام افزودہ یورینیم نکلوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ وہ پراسرار دھات ہے جو بجلی کے بلبوں سے لے کر میزائلوں کے وار ہیڈز تک ہر چیز میں موجود ہونے کے باوجود بہت سے لوگوں کے لیے اب بھی نامعلوم ہے۔

یورینیم، جسے ’یلو کیک‘ بھی کہا جاتا ہے، وہ عنصر ہے جس کی خاطر جنگیں لڑی گئیں اور جس کے لیے تہران نے اپنے بڑے جنرل، کمانڈر اور مقدس مذہبی پیشوا علی خامنہ ای تک کو داؤ پر لگا دیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یورینیم کیا ہے، یہ کیسے نکالا جاتا ہے اور ایران اس کی وجہ سے دنیا کے مدمقابل کیوں کھڑا ہے؟

ریاستوں کے وزن جتنی سرمئی دھات

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق یورینیم ایک تابکار دھات ہے جو زمین کی تشکیل کے وقت سے اس کے اندر موجود ہے۔

یہ لوہے سے تین گنا بھاری ہے اور صرف ایران ہی اسے نہیں نکال رہا بلکہ دنیا کے 40 سے زائد ممالک میں یہ پائی جاتی ہے۔

ظاہری طور پر یہ ایک عام سرمئی چٹان کی طرح لگتی ہے لیکن اس کی ایٹمی ساخت اسے زمین کے خطرناک ترین مواد میں سے ایک بنا دیتی ہے۔

قدرتی یورینیم دو اہم اقسام پر مشتمل ہوتا ہے: پہلا یورینیم 238 جو کل وزن کا 99.3 فیصد ہوتا ہے اور یہ آسانی سے ایٹمی انشقاق (fission) کے عمل سے نہیں گزر سکتا، اس لیے اکیلے توانائی پیدا کرنے یا ہتھیار بنانے کے کام نہیں آتا۔

دوسرا یورینیم 235 ہے جو نایاب ہے اور صرف 0.7 فیصد پایا جاتا ہے۔

یہی وہ خالص یورینیم ہے جس پر ایٹمی ری ایکٹرز اور ایٹم بموں کا انحصار ہے۔

چٹان سے افزودگی تک

یورینیم کو اس کی قدرتی شکل میں براہِ راست استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے اس میں یورینیم 235 کی شرح بڑھانی پڑتی ہے جسے ’افزودگی‘ کہا جاتا ہے۔

یہی وہ عمل ہے جو تمام تنازعوں کی جڑ ہے۔ افزودگی کا انحصار سینٹری فیوجز پر ہوتا ہے، جو ایسی سلنڈر نما مشینیں ہیں جو ایک منٹ میں ہزاروں بار گھومتی ہیں اور یورینیم کے بھاری ایٹموں (238) کو ہلکے ایٹموں (235) سے الگ کرتی جاتی ہیں۔

جتنا زیادہ یہ چکر دہرائے جائیں گے، افزودگی اتنی ہی بڑھتی جائے گی اور جتنا یہ شرح بڑھے گی، ایران اتنا ہی ایٹمی ہتھیار کے قریب ہوتا جائے گا۔

یورینیم کی مختلف شرحیں مختلف مقاصد کے لیے ہوتی ہیں:

  • تین سے پانچ فیصد تک: سویلین ری ایکٹرز میں بجلی پیدا کرنے کے لیے
  • 20 فیصد: ایٹمی آبدوزوں اور بحری جہازوں میں استعمال
  • 60 فیصد: لیبارٹریوں میں تجربات کے لیے
  • 90 فیصد سے زیادہ: بم بنانے کے لیے

یہی ایرانی بحران کا مرکز ہے، کیونکہ تہران افزودگی کی 60 فیصد سطح تک پہنچ چکا ہے، جس کی عالمی برادری کی نظر میں کوئی قائل کرنے والی سویلین وجہ موجود نہیں۔

اس کی واحد وضاحت ایٹمی ہتھیار ہے جو کسی بھی ملک کی طرف رخ کر سکتا ہے۔

اسرائیل، جس نے واشنگٹن کو اس معاملے میں الجھایا ہوا ہے، اس حوالے سے سب سے زیادہ خوف زدہ ہے، حالانکہ بہت سی روایات کے مطابق وہ خود اس ٹیکنالوجی کا مالک ہے۔

ایک دھات، آٹھ استعمال

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یورینیم کا استعمال ان شعبوں تک پھیلا ہوا ہے جن کا بہت سے لوگوں کو علم نہیں:

بجلی کی پیداوار: آج دنیا بھر میں 440 سے زیادہ ایٹمی ری ایکٹرز یورینیم سے چل رہے ہیں جو عالمی بجلی کا 10 فیصد فراہم کرتے ہیں۔

ایک کلوگرام افزودہ یورینیم تین ہزار ٹن کوئلے کے برابر توانائی پیدا کرتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایٹمی ہتھیار: ہیروشیما پر گرائے گئے بم میں صرف 64 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم استعمال ہوا تھا جس نے پورے شہر کو راکھ کر دیا تھا۔

بحری جہاز اور آبدوزیں: امریکی اور روسی ایٹمی آبدوزیں ایسے ری ایکٹرز سے چلتی ہیں جو انہیں 20 سال تک بغیر رکے سفر کی صلاحیت دیتے ہیں۔

طب: کینسر کے علاج (ریڈی ایشن تھراپی) اور تشخیص میں اس کا کلیدی کردار ہے۔

دفاع: اس کی کثافت کی وجہ سے اسے ٹینکوں کی ڈھال اور بکتر بند گاڑیوں کو تباہ کرنے والے گولے بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

خلائی تحقیق: دور دراز کے خلائی مشنز جیسے Voyager شمسی توانائی کے بجائے ایٹمی تھرمل جنریٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔

خوراک: مسالوں اور خشک میوہ جات کی زندگی بڑھانے کے لیے انہیں تابکار شعاعوں سے گزارا جاتا ہے۔

ارضیات: جیولوجسٹ چٹانوں کی عمر کا پتہ لگانے کے لیے یورینیم کا استعمال کرتے ہیں۔

یورینیم کہاں پایا جاتا ہے؟

تیل کے برعکس یورینیم تین طرح کے جغرافیائی خطوں میں پایا جاتا ہے: رسوبی چٹانوں میں (جیسے قازقستان اور امریکہ)، قدیم گرینائٹ چٹانوں میں (جیسے کینیڈا اور آسٹریلیا)، اور زیرِ زمین ذخائر میں جہاں یہ پانی میں تحلیل شدہ شکل میں ہوتا ہے۔

اس کی تلاش فضا سے خصوصی طیاروں اور زمین پر ’گائیگر کاؤنٹر‘ نامی آلے کے ذریعے کی جاتی ہے۔

زیرِ ممین مارکیٹ

یورینیم کی قیمت اس وقت تقریباً 85 ڈالر فی پاؤنڈ ہے لیکن یہ تیل یا سونے کی طرح کھلی منڈی میں نہیں بکتا۔

اس کے سودے خفیہ طور پر کان کن کمپنیوں اور حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں اور ہر سودے پر عالمی ایٹمی ایجنسی کی کڑی نظر ہوتی ہے۔

یہ دنیا کی واحد جنس ہے جس کی فروخت کے بعد بھی نگرانی کی جاتی ہے۔

دنیا میں یورینیم کی منڈی پر تین ممالک کا غلبہ ہے: قازقستان (43 فیصد)، کینیڈا (15 فیصد) اور آسٹریلیا۔

صرف ایران ہی کیوں؟

ایٹم بم کم از کم نو ممالک کے پاس ہے، لیکن ایران کا معاملہ مختلف ہے۔ اس کہانی کا آغاز 2002 میں ہوا جب ایرانی اپوزیشن نے نطنز اور اراک میں خفیہ تنصیبات کا انکشاف کیا۔

اس کے بعد سے دنیا تہران کے عزائم سے خوف زدہ ہے۔ اسی سال جارج ڈبلیو بش نے اسے ’شر کا محور‘ قرار دیا تھا۔

اعتماد کی اس کمی کی وجہ اسرائیل کے خلاف جارحانہ بیانات اور مختلف مسلح گروہوں کی حمایت ہے۔

ایران کے اتحادی اسے مغرب کا دہرا معیار قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 1998 میں ایٹم بم بنایا تو اسے حلیف بنا لیا گیا، اور اسرائیل کے ایٹمی ذخیرے پر کوئی عالمی قرارداد نہیں آئی۔

ان کے نزدیک مسئلہ یورینیم نہیں بلکہ واشنگٹن سے تعلقات ہیں۔

نگرانی کا نظام

دنیا ایران کی زیر زمین سرگرمیوں پر خلا سے سیٹلائٹس، فضائی جاسوس طیاروں اور آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کے ذریعے نظر رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ موساد اور سی آئی اے نے ایرانی ایٹمی نظام کے اندر اپنے ذرائع قائم کر رکھے ہیں۔

بم سے چند ہفتوں کی دوری

واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ 60 فیصد افزودگی سے 90 فیصد تک پہنچنے میں اب برسوں نہیں بلکہ چند ہفتے درکار ہیں۔

مغربی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ ایران تکنیکی ڈیزائن پہلے ہی تیار کر چکا ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو بم سے صرف چند ماہ کی دوری پر ہے۔

کھائی کے دہانے پر مذاکرات

اس وقت پاکستان کی ثالثی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ تجویز یہ ہے کہ ایران اپنا کچھ یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کر دے اور باقی کی افزودگی کم کر دے۔

بدلے میں ایران 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی واپسی چاہتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران ہر بات پر راضی ہو گیا ہے، لیکن تہران نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی۔

عارضی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے اور دنیا اپنی سانسیں روکے اس سرمئی چٹان کے مستقبل کا انتظار کر رہی ہے۔

(بشکریہ انڈپینڈنٹ عربیہ)


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نئی چینی ٹیکنالوجی جو ڈرونز کو مسلسل پرواز کے قابل بنا سکتی ہے

بدھ اپریل 22 , 2026
Share چینی سائنس دانوں نے مائیکروویوز کی مدد سے ڈرونز کو فضا میں ہی چارج کرنے کا ایک خصوصی پاور ٹرانسمیشن پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ یہ ایک تصوراتی ڈیزائن ہے اور مستقبل میں ممکنہ طور پر بغیر پائلٹ طیاروں (یو اے ویز) کو مسلسل پرواز کے قابل بنا سکتا […]

You May Like