لائیو اپ ڈیٹس |
اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد، اشیا ضرورت کی شہر میں داخلے کی خصوصی اجازت
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جمعے کی رات جاری بیان میں کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، اشیا خوردونوش اور ادویات لانے والی گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی خصوصی اجازت دی گئی ہے اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ اشیاء خوردونوش, سبزی پھل ڈسٹری بیوٹرز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی، فارما سیٹوکل انڈسٹری اور پیٹرول پمپس مالکان و سپلائرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
بیان کے مطابق ان تمام کیٹگریز میں کسی بھی قسم کی گاڑی کو روکا نہیں جا رہا تاہم تاحکم ثانی ہیوی ٹرانسپورٹ کے اسلام آباد داخلہ پر پابندی برقرار رہے گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ٹیم جمعے کی شب اسلام آباد آمد پہنچ گئی جہاں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے کیا۔
بیان کے مطابق دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورت حال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پی ٹی وی کے مطابق امریکہ کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔
تاہم پاکستان اور ایران کی جانب سے جمعے کو عباس عراقچی کے دورے کے حوالے سے جاری بیانات میں امریکہ سے مذاکرات کا براہ راست ذکر نہیں ہےـ
امریکی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کے اس متوقع دورے سے قبل اسلام آباد پہنچی تھی، جسے 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
اس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی جمعے کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر ضرورت پڑی تو سب لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار رہیں گے، لیکن سب سے پہلے سٹیو اور جیرڈ وہاں جا کر صدر، نائب صدر اور ٹیم کے دیگر ارکان کو صورت حال سے آگاہ کریں گے۔‘
سٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح اسلام آباد روانہ ہوں گے: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک انٹرویو میں کہا: ’اگر ضرورت پڑی تو سب لوگ پاکستان جانے کے لیے تیار رہیں گے، لیکن سب سے پہلے سٹیو اور جیرڈ وہاں جا کر صدر، نائب صدر اور ٹیم کے دیگر ارکان کو صورت حال سے آگاہ کریں گے۔‘
وائٹ ہاؤس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے وزیر خارجہ کی سربراہی میں ایرانی وفد بھی جمعے کی شب اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ (روئٹرز)
اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے ’بروقت دورے‘ کا آغاز کر رہا ہوں: ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے ’بروقت دورے‘ کا آغاز کر رہے ہیں۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے مزید کہا: ’میرے دوروں کا مقصد اپنے شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ امور پر قریبی رابطہ کاری اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا: ’ہمارے ہمسایہ ممالک ہماری ترجیح ہیں۔‘
عباس عراقچی کی سربراہی میں ایک وفد پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کرے گا: ایرانی میڈیا
ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ارنا نے کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایک وفد پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کرے گا۔
ادارے کے مطابق عراقچی جمعے کے روز اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے کا آغاز کریں گے اور ’اس دورے کا مقصد دو طرفہ مشاورت اور خطے کی موجودہ صورت حال کے ساتھ ساتھ ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حکومتوں کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کی تازہ ترین صورت حال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ کی قیادت میں مذاکراتی ٹیم کی آج رات اسلام آباد آمد متوقع: پی ٹی وی
پاکستان کے سرکاری چینل پی ٹی وی نے جمعے کو حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ٹیم کی آج رات اسلام آباد آمد متوقع ہے، جہاں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان ہے۔
پی ٹی وی کے مطابق امریکہ کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔
امریکی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کے اس متوقع دورے سے قبل اسلام آباد پہنچی تھی، جسے 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
اس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کا رابطہ، خطے میں امن کے لیے مسلسل مذاکرات پر زور
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے جمعے کو ٹیلیفونک گفتگو میں خطے میں امن کے لیے مسلسل مذاکرات اور رابطے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ایرانی ہم منصب کی فون کال موصول ہوئی، جس کے دوران ’فریقین نے علاقائی پیش رفت، جنگ بندی اور امریکہ-ایران روابط کے تناظر میں اسلام آباد کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔‘
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے بقیہ مسائل کے حل کے لیے ’مسلسل مذاکرات اور رابطے کی اہمیت‘ پر زور دیا تاکہ جلد از جلد ’علاقائی امن اور استحکام‘ کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر خارجہ عراقچی نے اس حوالے سے پاکستان کے مستقل اور تعمیری سہولت کاری کے کردار کو سراہا اور دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد سے متعلق تاحال ابہام پایا جا رہا ہے اور دونوں جانب سے تلخ بیانات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں ہفتے کو بحال ہوں گی: ایرانی میڈیا
ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازیں ہفتے کو دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ ایران نے چند دن قبل اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولی ہے۔
اعلان میں کہا گیا کہ پہلی بحال ہونے والی پروازیں استنبول اور مسقط کے لیے ہوں گی۔
ایران کی فضائی حدود 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے باعث بند کر دی گئی تھیں اور اب جنگ بندی کے دوران آہستہ آہستہ دوبارہ کھولی جا رہی ہیں۔
حکام نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ مشہد کا ہوائی اڈہ، جو ملک کے شمال مشرق میں واقع دوسرے بڑے شہر کو خدمات فراہم کرتا ہے، پیر کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
جمعے کو ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ترکی اور عمان کے لیے کم از کم دو بین الاقوامی پروازیں اس ایئرپورٹ سے روانہ ہوئیں۔
ایران سے مذاکرات میں جوہری ماہرین شامل کیے جائیں: یورپی یونین
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالس نے جمعے کو کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں جوہری ماہرین کو شامل کیا جانا چاہیے بصورت دیگر ’ہمیں ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
کاجا کالس نے قبرص میں یورپی رہنماؤں کے ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہ کہا کہ ’اگر مذاکرات صرف جوہری امور کے بارے میں ہیں اور میز پر کوئی جوہری ماہرین موجود نہیں ہیں، تو ہم ایک ایسے معاہدے پر پہنچیں گے جو جے سی پی او اے سے بھی کمزور ہوگا۔
’اور (اگر) خطے کے مسائل، میزائل پروگراموں، پراکسیز کے لیے ان کی حمایت، اور یورپ میں ہائبرڈ اور سائبر سرگرمیوں کو حل نہیں کیا گیا، تو ہمیں ایک زیادہ خطرناک ایران کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
لبنان، اسرائیل جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع: ڈونلڈ ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان نے غیر مستحکم جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے، ساتھ ہی انہوں نے جلد ہی ایک تاریخی سہ فریقی ملاقات اور ممکنہ امن معاہدے کی امید بھی ظاہر کی۔
امریکی صدر نے دونوں ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ امن کے قیام کا بہت اچھا امکان موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک آسان کام ہوجانا چاہیے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ایسے میں ٹرمپ نے لبنان کے لیے امن کے امکانات پر انتہائی پرامید انداز میں بات کی، جب کہ دوسری جانب جان لیوا اسرائیلی حملوں کے بعد حزب اللہ نے نئے راکٹ داغے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیل اور لبنان، جن کے آپس میں سفارتی تعلقات نہیں ہیں، کے سفیروں سے ملاقات کے دوران صحافیوں کو بتایا ’مجھے لگتا ہے کہ امن کے قیام کا بہت اچھا امکان موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک آسان کام ہوجانا چاہیے۔‘
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کی جائے گی۔ 14 اپریل کو سفیروں کے درمیان پہلی ملاقات کے بعد ابتدائی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جس کی مدت اتوار کو ختم ہونا تھی۔
دوسری جانب امریکی صدر جمعرات کو کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ معاہدے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور ایران کے لیے ’وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔‘ جب کہ تیسرا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میرے پاس دنیا بھر کا وقت ہے، لیکن ایران کے پاس نہیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ’ان کے رہنما اب ہمارے درمیان نہیں رہے، ناکہ بندی انتہائی سخت اور مضبوط ہے اور، یہاں سے، حالات صرف بدتر ہی ہوں گے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی اپنی سابقہ دھمکیوں کے بعد جمعرات کو ایران پر جوہری ہتھیار سے حملہ کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں، میں اسے استعمال نہیں کروں گا۔ میں جوہری ہتھیار کیوں استعمال کروں گا؟ جب ہم نے انتہائی روایتی انداز میں اس کے بغیر ہی انہیں تباہ کر دیا ہے۔ کسی کو بھی کبھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘

