ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک ٹیم جمعے کی شب اسلام آباد آمد پہنچ گئی جہاں امریکہ سے مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق تجاویز پر غور کا امکان ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہا کہ ایرانی وفد کا امریکہ کے نمائندوں سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایرانی موقف پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچایا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’ہم سرکاری دورے پر پاکستان کے شہر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جو امریکہ کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے خاتمے اور ہمارے خطے میں امن کی بحالی کے لیے جاری ثالثی اور نیک نیتی پر مبنی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایران کے مؤقف اور تحفظات پاکستان کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔‘
We arrive in Islamabad, Pakistan, for an official visit. FM Araghchi will be meeting with Pakistani high-level officials in concert with their ongoing mediation & good offices for ending American imposed war of aggression and the restitution of peace in our region.
No meeting… pic.twitter.com/1vP51xIoep
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) April 24, 2026
اس سے قبل پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے استقبال کیا۔
بیان کے مطابق دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں خطے کی تازہ صورت حال اور علاقائی امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
تاہم پاکستان اور ایران کی جانب سے جمعے کو عباس عراقچی کے دورے کے حوالے سے جاری بیانات میں امریکہ سے مذاکرات کا براہ راست ذکر نہیں ہےـ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو روئٹرز کو بتایا کہ ایران امریکہ کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ایک پیشکش تیار کر رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی انہیں اس پیشکش کی تفصیلات کا علم نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تو ٹرمپ نے کہا: ’میں یہ نہیں کہنا چاہتا، لیکن ہم اُن لوگوں سے بات کر رہے ہیں جو اس وقت اختیار میں ہیں۔‘
یہ بات واضح نہ ہو سکی کہ آیا عراقچی اس دورے میں امریکی خصوصی نمائندوں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے یا یہ ملاقات بعد میں ہوگی۔
پی ٹی وی کے مطابق امریکہ کی سکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے۔
Pleased to receive and welcome my brother, Foreign Minister of Iran, H. E. Abbas Araghchi @Araghchi, to Islamabad, alongside Field Marshal Syed Asim Munir and Interior Minister Mohsin Naqvi.
Look forward to our meaningful engagements aimed at promoting regional peace and… pic.twitter.com/XHrqXijgqx
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) April 24, 2026
امریکی بمباری اور ایران کی جانب سے اہم آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد دونوں ممالک ایک تعطل کا شکار ہیں، جہاں ایران کی تیل برآمدات رکی ہوئی ہیں جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
روئٹرز نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عراقچی آمد کے فورا بعد سیدھا سرینا ہوٹل میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے لیے پہنچے، جہاں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور بھی منعقد ہوا تھا۔
ادھر قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک ٹیلی فونک گفتگو میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا یقین دلایا۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے پُرامید لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایرانی جانب سے کچھ پیش رفت دیکھی ہے اور امید ہے کہ اس ہفتے کے اختتام پر مزید پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو اس ماہ کے آغاز میں ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ناکام ابتدائی مذاکرات کی قیادت کر چکے ہیں، اگر بات چیت کامیاب ثابت ہوئی تو پاکستان آ کر مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔
اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس کے متوقع دورے کو 21 اپریل کو موخر کر دیا گیا تھا اور جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بعد سے امریکہ اور ایران میں مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے تو ابہام تھا، تاہم اسلام آباد میں حکام نے اسی طرح سکیورٹی اقدامات کر رکھے تھے، جیسے مذاکرات کے پہلے دور میں کیے گئے تھے۔
عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ وہ پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ دوطرفہ امور پر شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور علاقائی صورت حال پر مشاورت کی جا سکے۔
بعد ازاں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ اس دورے میں جنگ کے خاتمے کی تازہ کوششوں پر بھی بات چیت شامل ہوگی۔
ایرانی سرکاری میڈیا اور پاکستانی ذرائع کی رپورٹس میں ایران کی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کوئی ذکر نہیں تھا، جو اس ماہ کے آغاز میں مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
ایرانی پارلیمان کے میڈیا دفتر نے اس خبر کی تردید کی کہ قالیباف نے ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے طور پر استعفیٰ دے دیا ہے، اور مزید کہا کہ ابھی تک مذاکرات کا کوئی نیا دور طے نہیں ہوا۔
وائٹ ہاؤس نے بھی جمعے کو تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا دورہ کریں گے۔
تازہ امریکی پابندی
ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی غیر قانونی تیل کی تجارت کو روکنے کے لیے ’فیصلہ کن اقدام‘ کر رہا ہے، جو ایرانی حکومت کی آمدنی کے بنیادی ذرائع میں شامل ہے اور جس سے دہشت گردی اور خطے میں عدم استحکام کو فروغ دیا جاتا ہے۔
محکمہ خزانہ نے آج ایک بڑی، آزاد چینی ریفائنری اور تقریباً 40 دیگر اہداف — جن میں جہاز اور ان کے مالکان یا منتظمین شامل ہیں — پر پابندیاں عائد کی ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کے لیے اہم سہارا فراہم کرتے ہیں۔
The Trump Administration will continue to intensify pressure on the Iranian regime to halt its use of illicit oil revenue to advance its malign agenda. https://t.co/XhcUjWQnMn
— Tommy Pigott (@statedeptspox) April 24, 2026
اس اقدام کا مقصد امریکہ کا کہنا ہے کہ ان مالی ذرائع کو محدود کرتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں حکومت کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو تقویت دیتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ امریکہ ایران کی مبینہ دہشت گردی کی مالی معاونت، پراکسی قوتوں کی حمایت اور علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ’انتظامیہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ایرانی حکومت غیر قانونی تیل آمدنی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال نہ کر سکے، جبکہ ایرانی عوام بدستور معاشی بدانتظامی اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھائے گا اور اس بین الاقوامی نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنائے گا جو ایران کی غیر قانونی توانائی تجارت کو سہارا دیتا ہے، اور یہ سب ’اکنامک فیوری‘ کے تحت کیا جا رہا ہے۔
تیل کی قیمتیں
جمعہ کو پاکستان کی وزارت توانائی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، کیونکہ تاجر تاریخ کے بدترین تیل جھٹکے کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگاتے ہوئے مزید مذاکرات کے امکانات کو بھی مدنظر رکھ رہے تھے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 105.33 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو تقریباً 0.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ فیوچرز 1.5 فیصد کمی کے ساتھ 94.40 ڈالر پر آ گیا۔
اسلام آباد ٹریفک پلان
اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں پھر سے واضح کیا گیا ہے کہ ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا۔
کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوگا۔ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جاسکتی ہے۔ اسلام آباد میں کسی بھی جانب یا کسی بھی شاہراہ سے آنے والی ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا۔
ہیوی ٹریفک مالکان سے پھر سے کہا گیا ہے کہ ان دنوں میں دقت سے بچنے کے لیے اسلام آباد کی طرف ہرگز سفر نہ کریں۔
اسلام آباد کے رہائشی مختلف سڑکیں بند ہونے کی صورت میں ذیل متبادل ٹریفک پلان پر عمل درآمد کریں۔ جی5، جی 6 اور جی 7 ، ایف 6، ایف 7 کے رہائشی راولپنڈی آنے جانے کے لیے مارگلہ روڈ سے 9th ایونیو استعمال کریں۔
فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ آنے جانے والی ٹریفک 9th ایونیو کی طرف موڑ دی جائے گی۔ زیروپوائنٹ سے کورال چوک بند ہونے کی صورت میں سری نگر ہائی وے سے 9th ایونیو استعمال کرتے ہوئے سٹیڈیم روڈ کے ذریعے مری روڈ چاندنی چوک سے راول روڈ استعمال کرتے ہوئے کورال جاسکتے ہیں۔
پارک روڈ سے کلب روڈ بند ہونے کی صورت میں ٹریفک ترامڑی چوک کی طرف موڑ دی جائے گی ۔ بھارہ کہو سے راولپنڈی آنے جانے والے شہری کو رنگ روڈ، بنی گالہ، لہتراڑ روڈ استعمال کرنے کا کہنا گیا ہے۔
راولپنڈی صدر سے اسلام آباد آنے جانے والے شہری کرنل شیرخان روڈسے فقیر ایپی روڈ یا نائنتھ ایونیو میں سے کوئی بھی شاہراہ استعمال کریں۔ جی ٹی روڈ پشاور سے لاہور جانے والی ہیوی ٹریفک ٹیکسلا سے موٹروے، چکری انٹرچینج، چک بیلی روڈ سے روات جی ٹی روڈ استعمال کریں۔
جی ٹی روڈ لاہور سے پشاور جانے والی ہیوی ٹریفک جی ٹی روڈ روات سے چک بیلی روڈسے چکری انٹر چینج استعمال کرتے ہوئے براستہ موٹروے ،ٹیکسلا کی جانب سفر کریں۔

