امریکا میں قدامت پسند نظریات کے مؤثر ترجمان، صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ’ ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے ‘ کے بانی چارلی کرک کو یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ بدھ کے روز طلباء سے خطاب کر رہے تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کرک کو 200 یارڈ کے فاصلے پر واقع ایک عمارت سے نشانہ بنایا گیا اور گولی ان کی گردن میں لگی۔ واقعے کے فوری بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم جانبر نہ ہو سکے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
🚨⚡️BREAKING AND UNUSUAL
Charlie Kirk, 31, has died from his injuries at Utah Valley University. https://t.co/ktUCzbRDqs
— RussiaNews 🇷🇺 (@mog_russEN) September 10, 2025
چارلی کرک امریکی قدامت پسند تحریک کی نمایاں آواز اور نوجوانوں میں مقبول ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔
ان کی قائم کردہ تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے ملک بھر کے 3,500 سے زائد کالج کیمپسز میں سرگرم ہے اور تعلیمی اداروں میں دائیں بازو کے خیالات کو فروغ دیتی ہے۔
واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو چکی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں خصوصاً ایف بی آئی نے فوری طور پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چارلی کرک نہ صرف ایک عظیم انسان تھے بلکہ وہ میرے اور لاکھوں امریکیوں کے دلوں کی دھڑکن تھے میں اُن کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/115181934991844419
ریاست یوٹاہ کے گورنر اسپنسر کاکس نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مسلسل تفتیشی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں اس قسم کی پُرتشدد کارروائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
یاد رہے کہ چارلی کرک نہ صرف سیاسی میدان میں سرگرم تھے بلکہ وہ امریکی نوجوانوں میں قدامت پسند نظریات کے فروغ کے لیے ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکے تھے۔

