ترکی غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ٹاسک فورس تعینات کرے گا: اردوغان

Share

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جمعرات کو کہا کہ ترکی اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ’ٹاسک فورس‘ میں شرکت کرے گا۔

اردوغان نے کہا، ’ہم امید کرتے ہیں کہ اس ٹاسک فورس میں شامل ہوں گے جو زمینی سطح پر معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کرے گی۔‘

ترکی مذاکرات میں قریبی طور پر شامل رہا ہے اور اس نے مصر کے تفریحی شہر شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات کے لیے ایک ٹیم بھیجی تھی۔

اروغان نے کہا، ’یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ غزہ کو فوری طور پر جامع انسانی امداد فراہم کی جائے۔۔۔ اور اسرائیل اپنے حملے فوری طور پر بند کرے۔‘

انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ ترکی غزہ میں تعمیر نو کی کوششوں میں مدد کرے گا۔

ادھر اسرائیل نے جمعرات کی شام کو کہا کہ غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے حتمی مسودے پر مصر میں تمام فریقین نے دستخط کر دیے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کی ترجمان شوش بیڈروسیئن نے صحافیوں کو بتایا، ’پہلے مرحلے کے حتمی مسودے پر آج صبح مصر میں تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تمام فریقین نے دستخط کر دیے۔‘

انہوں نے کہا، ’اب پہلا مرحلہ بہت واضح ہے: ہمارے تمام یرغمالی، زندہ اور مردہ، 72 گھنٹے بعد رہا کر دیے جائیں گے، یعنی پیر تک۔‘

بیڈروسیئن نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے ’24 گھنٹوں کے اندر‘ ہو جائے گا، جو جمعرات کو جی ایم ٹی کے مطابق 1400 پر ہونا ہے، جس میں منصوبے کی منظوری متوقع ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا، ’اس کے بعد آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) ان نقشوں پر دکھائی گئی ’ییلو لائن‘ پر دوبارہ تعینات ہو جائے گی جو اس وقت تک وسیع پیمانے پر تقسیم کیے جا چکے ہیں، اور اس 24 گھنٹے کی مدت کے بعد 72 گھنٹے کا وقت شروع ہو گا جس میں ہمارے تمام یرغمالیوں کو واپس اسرائیل رہا کر دیا جائے گا۔‘

یہ معاہدہ، جس پر جمعرات کو مصر میں دستخط کیے جائیں گے، باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی پر مشتمل ہے اور اسے دو سالہ جنگ کے خاتمے کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔

ادھر مصری ہلال احمر نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد امداد لے جانے والے 153 ٹرک رفح سرحدی چوکی کے ذریعے غزہ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

مصری امدادی تنظیم کے دو ذرائع نے تصدیق کی کہ ’153 امدادی ٹرک رفح کراسنگ کی بائی پاس سڑک سے ہوتے ہوئے کیرم شالوم کراسنگ کی طرف روانہ ہوئے، تاکہ انہیں غزہ کی پٹی میں پہنچایا جا سکے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان ٹرکوں میں 80 اقوام متحدہ کے، 21 قطر کے اور 17 مصری ہلال احمر کے تھے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کیا انڈیا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے قریب ہے؟

جمعرات اکتوبر 9 , 2025
Share افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ انڈیا کو اسلام آباد میں یقیناً بڑے غور، باریکی اور تفصیل سے دیکھا جائے گا۔ یہ کسی بھی طالبان وزیر کا انڈیا کا پہلا دورہ ہے۔ اگرچہ انڈیا نے طالبان کی پہلی اور موجودہ دوسری حکومت کو آج تک تسلیم […]

You May Like