خطے میں امن کی خاطر افغان حکومت ’دہشت گردوں‘ کو لگام ڈالے، شہباز شریف

Share

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے افغانستان میں طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کو یقیینی بنانے کی غرض سے ’دہشت گردوں‘ کو لگام ڈالے۔

 اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ضلعی کچہری میں ایک خودکش حملے میں 12 اموات اور 36 افراد کے زخمی ہوئے۔

شہباز شریف نے دھماکے کا ذمہ دار پاکستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو ٹھہرایا۔ تاہم ٹی ٹی پی خود کش حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کر چکی ہے۔  

یہ خود کش دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کی غرض سے مذاکرات کے کئی دور ناکام ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد کا الزام ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملے کرتی ہے، جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

دونوں ملک 19 اکتوبر کو عارضی جنگ بندی پر رضامند ہونے سے قبل گذشتہ مہینے شدید جھڑپوں میں مصروف تھے جس میں درجنوں اموات ہوئی تھیں۔

بعد ازاں ترکی اور قطر کی ثالثی میں دونوں کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور ناکامی پر ختم ہوا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے افغان حکومت کے نام ایک پیغام میں کہا کہ ’میں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آؤ، ہم خلوص نیت کے ساتھ بیٹھیں اور دہشت گردوں کو لگام ڈالیں۔

’یہ عہد کریں اور ہم آپ کی مکمل حمایت کریں گے تاکہ اس پورے خطے میں امن قائم ہو اور پاکستان اور یہ پورا خطہ ترقی اور خوشحالی کا تجربہ کر سکے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی عدالت میں ہونے والے دھماکے اور اس ہفتے شمال مغربی پاکستان کے ایک کیڈٹ کالج میں ہونے والے حملے میں ’غیر ملکی ہاتھ‘ ملوث تھے جس میں کم از کم تین افراد جان سے گئے۔  

پاکستان کی حکومت اور فوج انڈیا پر ملک کے شمال مغربی اور جنوب مغربی صوبوں میں عسکریت پسندوں کی مالی معاونت اور مسلح کرنے کا الزام بھی عائد کرتی ہے۔

نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اسلام آباد پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ متنازعہ کشمیر کے انڈیا کے زیر انتظام علاقے میں علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔

ان باہمی الزامات نے اس سال کے شروع میں اس وقت کشیدگی کو ہوا دی جب اپریل میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک عسکریت پسندوں کے حملے میں 22 افراد جان سے گئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔

اس واقعے نے مئی میں سرحد پار سے گولہ باری، ڈرون حملوں اور دونوں فریقوں کے درمیان محدود فضائی مصروفیات کا آغاز کیا، اس سے پہلے کہ امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی گئی تھی۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

دہشت گردی کا خطرہ: کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ بند

جمعرات نومبر 13 , 2025
Share صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کوئٹہ سمیت صوبے کے اکثر علاقوں میں تین دن کے لیے انٹرنیٹ سروس بند کردی ہے۔  کوئٹہ سے پنجاب جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بھی تین دن کے لیے روک دی گئی ہے جب کہ کینٹ کی […]

You May Like