پہاڑوں کی اہمیت پر ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کی تقریب

Share

سعودی عرب کے شہر ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام 11 دسمبر کو پہاڑوں کے عالمی دن کے موقعے پر تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سفارت کاروں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، کوہ پیماؤں اور فنکاروں نے شرکت کی۔

پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ تقریب میں پہاڑوں اور ماحولیات کی اہمیت سے متعلق دستاویزی فلمیں دکھائی گئیں اور پہاڑی فوٹوگرافی کی نمائش بھی کی گئی۔ فلموں اور فوٹوگرافی کے ذریعے پاکستان کے پہاڑی مناظر کی دلکش خوبصورتی اور ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق کا کہنا تھا کہ ’پہاڑ صرف مناظر نہیں، یہ زندگی دینے والے ماحولیاتی نظام، ثقافت کے خزانے اور تحریک کے سرچشمے ہیں۔ آج کی رات ہم ان کی خوبصورتی ہی نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ان کے تحفظ کی مشترکہ ذمہ داری بھی مناتے ہیں۔‘

ریاض میں ہونے والی اس تقریب کا آغاز ’ماؤنٹنز آف پاکستان‘کے عنوان سے ایک مختصر دستاویزی فلم سے ہوا، جس میں پاکستان کے پہاڑی مناظر کی دلکش خوبصورتی اور ماحولیاتی اہمیت پیش کی گئی۔

سفیر احمد فاروق نے اپنے ابتدائی خطاب میں پہاڑوں کے پانی، خوراک اور روزگار کے تسلسل میں کردار پر روشنی ڈالی، پاکستان کے پائیدار کوہستانی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا، اور ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر پگھلنے اور متعلقہ چیلنجز کا ذکر کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروگرام میں اقوامِ متحدہ کے ٹور ازم آفس کے ڈائریکٹر کے تاثرات بھی شامل تھے، جنہوں نے پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے بعد ’سپرٹ آف ماؤنٹینئرنگ‘ کے عنوان سے ایک اور مختصر دستاویزی فلم پیش کی گئی، جس میں پاکستانی کوہ پیماؤں کی ہمت، استقامت اور کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تقریب میں موجود پاکستانی کوہ پیما اور ماحولیاتی کارکن نائلہ کیانی، جنہوں نے کے ٹو، نانگا پربت سمیت دنیا کی بلند ترین چوٹیاں سر کر رکھی ہیں، نے اپنے تجربات بھی شیئر کیے جبکہ سفیر فاروق امیل نے پاکستان کے پہاڑی ورثے اور تحفظ و ای کو ٹورازم کے فروغ سے متعلق جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔

تقریب کا اختتام مشہور لینڈ سکیپ اور نیچر فوٹوگرافر اویس علی کی کیوریٹ کردہ پہاڑی فوٹوگرافی نمائش کے باضابطہ افتتاح سے ہوا، جس نے مہمانوں کو پاکستان کے شمالی خطوں کی فطری خوبصورتی کا دل موہ لینے والا تجربہ فراہم کیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ٹرمپ کی سکیورٹی پالیسی میں افغانستان اور پاکستان کا ذکر کیوں نہیں؟

جمعہ دسمبر 12 , 2025
Share   وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی سے متعلق نئی پالیسی جاری کر دی ہے۔ اس نئی حکمت عملی میں زیادہ زور امریکہ کے معاشی مفادات پر دیا گیا ہے اور تمام پالیسی ’امریکہ پہلے‘ کے بیانیے کے گرد گھومتی ہے۔ اس سٹریٹیجی […]

You May Like