مودی کے انڈین کشمیر میں ترقی کے دعوے گمراہ کن: پاکستان

Share

پاکستان نے جمعے کو انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی صورت حال سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات کو ’بے بنیاد‘ اور ’گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ 

اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق ایسے بیانات عالمی توجہ کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری ’سنگین اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ سے ہٹانے کی ایک دانستہ کوشش ہیں۔

 

بیان میں اس امر پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا کہ مودی نے ایک بار پھر پہلگام حملے میں پاکستان کو ملوث کرنے کا الزام بغیر کسی قابلِ اعتبار ثبوت کے عائد کیا۔

 

وزیر اعظم مودی نے آج انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ٹرین نیٹ ورک کے افتتاح کے موقعے پر اپنے خطاب میں کہا  کہ ’22 اپریل کو پہلگام میں جو کچھ ہوا وہ پاکستان کا کیا دھرا ہے۔ پاکستان نے پہلگام میں انسانیت اور کشمیریت دونوں پر وار کیا۔ 

 

’اس کا ارادہ انڈیا میں دنگے کرانے کا تھا، کشمیر کے محنت کشوں کی کمائی کو روکنا تھا اس لیے پاکستان نے سیاحوں پر حملہ کیا۔‘

پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی درجے کا تعین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔ 

ترجمان نے کہا کہ کوئی بھی بیان بازی اس قانونی اور تاریخی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی بیان میں کہا گیا کہ ’مقبوضہ جموں و کشمیر میں ترقی کے انڈین دعوے بے بنیاد ہیں کیونکہ یہ علاقہ غیر معمولی فوجی موجودگی، بنیادی آزادیوں کے جبر، من مانی گرفتاریوں، اور آبادیاتی تبدیلی کی منظم کوشش جیسے حقائق سے دوچار ہے، جو بین الاقوامی قوانین، بشمول چوتھے جنیوا کنونشن، کی صریح خلاف ورزی ہیں۔‘

مودی نے جموں و کشمیر میں ٹرین نیٹ ورک کا افتتاح کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’یہاں کئی پیڑھیاں اس ٹرین نیٹ ورک کا سپنا دیکھتے دیکھتے بوڑھی ہو گئیں لیکن اب ان کا سپنا پورا ہو رہا ہے۔‘

 

پاکستان نے ایک بار پھر کشمیری عوام کی ان کے جائز حقوق اور وقار کے لیے جاری جدوجہد میں اصولی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

 

ترجمان نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ انڈیا کو اس کے مظالم پر جوابدہ ٹھہرائیں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں درج ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت استعمال کرنے کی اجازت دلائیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ٹرمپ اور مسک کی چپقلش: کیا خلائی سفر کا مستقبل خطرے میں ہے؟

اتوار جون 8 , 2025
Share نجی امریکی خلائی کمپنی سپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان غیر معمولی تنازعے کے نتائج خلائی سفر کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ خود کو امریکی صدر  کا ’فرسٹ بڈی‘ کہنے والے مسک اور ٹرمپ کے درمیان بڑی لڑائی جاری […]

You May Like