مریخ کا 25 کلو وزنی پتھر 53 لاکھ ڈالر میں نیلام

Share

زمین پر موجود مریخ کا سب سے بڑا پتھر نیویارک میں نایاب جیالوجیکل اور آرکیالوجیکل اشیا کی نیلامی میں بدھ کو 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہو گیا۔

تاہم نیلامی میں زیادہ توجہ ایک نایاب قسم کے نوجوان ڈائنوسار کے ڈھانچہ پر رہی، جو 30 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوا۔

معروف نیلام گھر سدبیز کے مطابق یہ 25 کلوگرام وزنی پتھر، جس کا نام این ڈبلیو اے 16788ہے، نومبر 2023 میں نائیجر کے صحرا میں ایک میٹیورائٹ تلاش کرنے والے شخص نے دریافت کیا تھا۔

یہ پتھر ایک بڑے سیارچے کی ٹکر سے مریخ کی سطح سے اُڑ کر ساڑھے 22 کروڑ کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے زمین تک پہنچا۔

نیلامی سے پہلے اس کی قیمت کا تخمینہ 20 سے 40 لاکھ ڈالر کے درمیان تھا۔سدبیز کے بقول خریدار کی شناخت فی الحال نہیں بتائی گئی۔ آخری بولی 43 لاکھ ڈالر کی تھی۔

مختلف فیس اور اخراجات شامل کرنے کے بعد اس کی باظابطہ فروخت کی قیمت تقریباً 53 لاکھ ڈالر تھی، جس سے یہ اب تک نیلامی میں فروخت ہونے والا سب سے قیمتی میٹیورائٹ بن گیا۔

سدبیز کے مطابق سرخ، بھورے اور سرمئی رنگ کا یہ پتھر زمین پر پائے جانے والے سب سے بڑے مریخی ٹکڑے سے 70 فیصد بڑا ہے۔

نیلام گھر نے کہا کہ یہ بھی ایک نایاب دریافت تھی۔ زمین پر پائے جانے والے 77,000 سے زائد میٹیورائٹس میں سے صرف 400 مریخی میٹیورائٹس ہیں۔

دوسری طرف ڈائنوسار کے ڈھانچے نے چھ بولی دہندگان کے درمیان چھ منٹ تک جنگ چھیڑے رکھی۔ اس کا پیشگی تخمینہ 40 سے 60 لاکھ ڈالر تھا۔

یہ ایک نایاب قسم کے چار میں سے صرف ایک سیریٹوسورس نیسیکورنائس کا نوجوان ڈھانچہ تھا، جو ٹائرانوسورس ریکس کی طرح نظر آتا ہے لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے۔

ڈھانچے کی بولی 60 لاکھ ڈالر سے شروع ہوئی، پھر نیلامی کے دوران یہ بولی دو کروڑ 60 لاکھ ڈالر پر بند ہوئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فروخت کی قیمت تین کروڑ پانچ لاکھ ڈالر تھی، جس میں فیس اور اخراجات شامل تھے۔ اس خریدار کا نام بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔

لیکن نیلام گھر نے کہا کہ خریدار اس ڈھانچے کو کسی ادارے کو قرض دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ نیلامی میں ڈائنوسار کے لیے ادا کی جانے والی تیسری سب سے بڑی رقم تھی۔

ایک سٹیگوسورس ڈھانچہ جسے ’ایپیکس‘ کہا گیا تھا، گذشتہ سال سدبیز میں چار کروڑ 46 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔

ڈائنوسار کے اس ڈھانچے کے مختلف حصے 1996 میں وائیومنگ کے لاریامی میں بون کیبن کوئرری میں ملے تھے، جو ڈائناسور کی ہڈیوں کی ایک سنہری کان ہے۔

ماہرین نے تقریباً 140 فوسل ہڈیوں کو کچھ ماڈل مواد کے ساتھ جوڑ کر اس کا ڈھانچہ تیار کیا اور اسے نمائش کے لیے تیار کیا۔

سدبیز کے مطابق اسے پچھلے سال فوسلوجک یوٹاہ کی ایک کمپنی نے خریدا تھا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پرانے لاہور کو نئے سے ملانے والا جدید پل تکمیل کے مراحل میں

جمعہ جولائی 18 , 2025
Share راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (روڈا) پرانے لاہور شہر کو نئے شہر سے ملانے کے لیے دریائے راوی پر ایک جدید اور لینڈ مارک پل تعمیر کر رہی ہے، جب کہ ایک ایکسپریس وے اور ایک رنگ روڈ کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے، جو اس پل کے ذریعے شہر […]

You May Like