کراچی: برائلر فارمنگ کے لیے رہنما ایپ پولٹری پریڈکٹر

Share

کراچی میں برائلر فارمنگ کی صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیت عدیل ہارون نے پولٹری پریڈکٹر نامی ایپلیکیشن (ایپ) بنائی ہے جو برائلر فارمنگ کا آغاز کرنے والے کسی بھی فرد کو جائزہ رپورٹ بنا کر دینے سے لے کر اسے مکمل آگاہی فراہم کرتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے عدیل ہارون نے کہا کہ اس ایپ میں کسی برائلر فارم میں موجود چوزوں کی تعداد اور دیگر بنیادی معلومات ڈالنے کے بعد یہ ایپ مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

عدیل ہارون کے مطابق: ’اس ایپ کی مدد سے برائلر فارمر یہ معلوم کرسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں چوزوں اور انہیں دی جانے والی فیڈ کی قیمت کیا ہو گی۔ ان کے برائلر فارم پر کتنے چوزے ممکنہ طور پر ہلاک ہو سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جب چوزے مرغی بن جائیں تب کیا قیمت ہو گی، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کتنا نقصان یا فائدہ ہو گا۔ اس طرح کی تمام معلومات پہلے سے حاصل ہونے کی صورت میں کسی بھی فرد کے لیے یہ آسان ہو جائے گا وہ اپنے کاروبار کے متعلق منصوبہ بندی کر سکے۔

’اسی طرح جب مرغی تیاری ہو جائے اور قیمت اچھی نہ مل رہی ہو اور ایپ کچھ دنوں میں قیمت بہتر ہونے کا بتائے تو کچھ دن انتظار کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ ایپ برائلر فارمنگ کے شعبے سے منسلک افراد کے لیے انتہائی کارگر ہے۔‘

مرغیوں کی افزائش یعنی برائلر فارمنگ کے شعبے میں کئی چیزوں کے متعلق پیشگی پتہ لگانا بہت مشکل ہے، اس لیے معلومات کے بغیر برائلر فارمنگ شروع کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

عدیل ہارون کے مطابق: ’برائلر فارمنگ کی مانگ میں بے پناہ اضافے کے بعد کسی بھی فارم پر بڑے تعداد میں چوزے رکھنا، ان چوزوں کو مختلف بیماریوں سے لاحق خطرات، ان بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین کب اور کون سی کرنی ہے، چوزوں کو دی جانے والی خوراک کی قیمت میں اچانک اضافے، صفائی کے مختلف طریقے اور بدلتا ہوا موسم یہ سب عوامل فارمرز کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

’ایسے حالات میں مرغیوں کی صحت، پیداوار، اور نفع کا برقرار رہنا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔‘

عدیل ہارون نے کہا کہ ’برائلر فارمنگ کے شعبے میں کئی پہلوؤں کے متعلق پہلے سے پتہ لگانا بہت مشکل ہے۔ فارمنگ کے لیے خریدے گئے چوزوں کا ریٹ ایک جیسا نہیں ہوتا، کبھی قیمت کم اور کبھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔

’اس کے علاوہ چوزوں کو جو فیڈ دی جاتی اس کی قیمت کبھی 200 روپے تو کبھی 15 روپے ہو سکتی ہے۔ ہر ہفتے کبھی بہت زیادہ کبھی کم تعداد میں چوزے مرجاتے ہیں۔ اس طرح جب چوزا مکمل مرغی بن جاتا ہے اور اسے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے تو اس کی قیمت کبھی بہت کم اور کبھی زیادہ ملتی ہے۔

عدیل ہارون کا کہنا ہے کہ ان کی ایپ اس کاروبار سے پہلی بار وابستہ ہونے والوں اور اس سے پہلے سے منسلک افراد کو مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

فیس بک کی ’دل توڑنے والی‘ مہم میں لاکھوں اکاؤنٹس ڈیلیٹ

بدھ جولائی 23 , 2025
Share فیس بک نے صفائی مہم کے حصے کے طور پر دنیا کے سب سے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ایک کروڑ سے زیادہ اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں۔ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے کہا ہے کہ یہ اقدام ’سپیم مواد کو ہٹانے‘ اور حقیقی اکاؤنٹس کو […]

You May Like