’فلسطینی پیلے‘ سلیمان العبید کی اسرائیلی فائرنگ سے موت

Share

فلسطینی فٹ بال کے لیجنڈ سلیمان العبید، جنہیں ’فلسطینی پیلے‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، جنوبی غزہ میں امداد کے انتظار کے دوران اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے جان سے گئے۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کے مطابق قومی ٹیم کے 41 سالہ سابق سٹار کو بدھ کو ایک امدادی مرکز کے قریب گولی ماری گئی۔ وہ خوراک کے لیے قطار میں کھڑے تھے جب اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کی۔

پی ایف اے کے بیان میں کہا گیا ’سابق قومی ٹیم کے کھلاڑی سلیمان العبید غزہ پٹی میں انسانی امداد کے انتظار کے دوران قابض فورسز کے حملے میں شہید ہو گئے۔‘

بیان کے مطابق العبید کو فلسطینی فٹ بال کی تاریخ کے درخشاں ستاروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ میدان میں ان کی مہارت کے باعث انہیں برازیل کے لیجنڈ پیلے کے حوالے سے ’فلسطینی پیلے‘ کا لقب دیا گیا۔

وہ 24 مارچ، 1984 کو غزہ شہر میں پیدا ہوئے۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہرن‘، ’بلیک پرل‘، ’فلسطین کا ہنری‘ اور ’فلسطینی فٹ بال کا پیلے‘ وہ القابات ہیں جن سے اس عظیم کھلاڑی کو یاد کیا جاتا ہے۔

اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے 100 سے زائد گول کیے۔

فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے آغاز سے اب تک کم از کم 808 فلسطینی کھلاڑی جان سے جا چکے ہیں اور ان میں 421 فٹ بالرز شامل ہیں، جن میں سے تقریباً نصف بچے تھے۔

پی ایف اے کے مطابق ’اب تک 421 فٹ بالرز شہید یا بھوک سے فوت ہو چکے ہیں، جن میں 103 بچے شامل ہیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سائنس میں فراڈ ایک بڑھتا ہوا رجحان: تحقیق

جمعرات اگست 7 , 2025
Share ایک تشویش ناک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ منظم خفیہ نیٹ ورک، جس میں افراد اور گروہ شامل ہیں، جعلی تحقیق کو فروغ دے رہا ہے اور سائنس کی ساکھ کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے۔ امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے سائنسی تحریروں […]

You May Like