سیلاب سے موٹروے سمیت 200 سے زائد سڑکیں متاثر: پنجاب

Share

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکام نے بتایا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے قومی اور ضلعی سطح کی 200 سے زائد سڑکوں کو متاثر کیا۔

قدرت آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے مطابق پاکستان میں جون کے وسط سے ہونے والی مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں اور ہزار سے زائد زخمی ہوئے جبکہ مال مویشی اور املاک کا بھی نقصان ہوا۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق سیلاب کے باعث موٹر وے ایم فائیو 13 مقامات پر متاثر ہوئی جبکہ مزید چار سے پانچ مقامات پر نقصان کا خدشہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ موٹر وے ایم فائیو 15ویں روز بھی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ ان کے مطابق سیلاب نے قومی اور ضلعی سطح کی 200 سے زائد سڑکوں کو بھی متاثر کیا۔

ترجمان موٹر وے پولیس عمران شاہ نے بتایا کہ ملتان سے سکھر سفر کے لیے متبادل راستے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’شاہ شمس انٹرچینج سے قومی شاہراہ پر جا کر اوچ شریف انٹرچینج کے راستے دوبارہ موٹر وے ایم فائیو پر شامل ہوا جا سکتا ہے، جبکہ سکھر سے ملتان آنے والے مسافر بھی یہی متبادل راستہ اختیار کریں۔‘

پنجاب حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد اور نارووال میں ریکارڈ بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ ہوئی جبکہ دریائے ستلج، بیاس اور راوی میں 40 سالہ ریکارڈ سیلاب نے صوبے کے 27 اضلاع کو متاثر کیا۔

حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے بعد بحالی کے لیے سروے کا آغاز کر دیا ہے، مگر سڑکوں اور پلوں کی بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

عرفان کاٹھیا کے مطابق جلالپور پیروالہ سے جھانگڑال تک 22 کلومیٹر طویل حصہ شدید متاثر ہوا، جہاں موٹر وے کے نیچے موجود 73 گزرگاہوں میں سے 15 تباہ ہو گئی ہیں۔

’ان کی بحالی میں مشکل یہ ہے کہ دونوں اطراف پانی کھڑا ہے، جس کے اخراج کے بعد ہی تعمیراتی کام ممکن ہو گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج کا پانی دریائے چناب میں شامل ہونے میں مزید ایک ہفتہ لگے گا، اس کے بعد مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جلالپور – لودھراں روڈ سمیت کئی مقامات پر ٹریفک بند ہے۔ ’بعض علاقوں میں پانی کی سطح کم کرنے کے لیے ڈالے گئے شگافوں کے باعث بھی سڑکیں کھل نہیں سکیں۔‘

گڑھ مہاراجہ–شورکوٹ روڈ اور پل، سیت پور اور علی پور کے پل بھی متاثر ہوئے، جہاں عارضی لوہے کے پل لگا کر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

عرفان کاٹھیا نے کہا کہ سب سے زیادہ نقصان جھنگ اور جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ اور گجرات میں اربن فلڈنگ سے متاثرہ سڑکیں بڑی حد تک بحال ہو چکی ہیں۔

عرفان کاٹھیا کے مطابق جنوبی پنجاب میں دریائے ستلج اور چناب کے کناروں پر سینکڑوں کلو میٹر علاقے اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، وہاں عارضی راستوں کے ذریعے امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے، مگر صورتحال کو معمول پر آنے میں مزید چند دن لگیں گے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

فلسطینی اتھارٹی کی مدد کے لیے ہنگامی بین الاقوامی اتحاد کا اعلان: سعودی وزیر خارجہ

جمعہ ستمبر 26 , 2025
Share سعودی عرب نے جمعرات کو نیویارک میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک ہنگامی بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، مملکت اس کے لیے نو کروڑ ڈالر فراہم کرے گی۔ یہ بات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دو ریاستی حل پر عالمی اتحاد کے مشترکہ اجلاس میں […]

You May Like