’یوم سیاہ‘: کشمیر کے حل کے بغیر برصغیر کا دائمی امن محض خواب، شہباز شریف

Share

پاکستان میں 27 اکتوبر یوم سیاہ کشیمر کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن کی مناسبت سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں پیر کو  کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے بغیر برصغیر میں دائمی امن ممکن نہیں۔
 
78 سال قبل انڈیا نے 27 اکتوبر کو سری نگر میں اپنی افواج بھیج کر وہاں قبضہ کیا تھا اس لیے پاکستان ہر سال 27 اکتوبر کشمیر کی تاریخ کے ’سیاہ‘ دن کے طور پر مناتے ہوئے کہتا آیا ہے یہ انسانی تاریخ کا وہ افسوس ناک باب ہے جو آج بھی جاری ہے۔
 
اس دن سے انڈیا اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود کشمیریوں کا  حق خود ارادیت کو مسلسل پامال  کر رہا ہے۔ 
 
وزیراعظم شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ کہ ’پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں بہت واضح، غیر متزلزل اور اصولی موقف رکھتا ہے۔ اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے بغیر برصغیر کا دائمی امن و استحکام محض خواب ہی رہ جائے گا۔‘
 
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے آٹھ دہائیوں سے بے پناہ مشکلات اور ’ظلم و بربریت‘ کا مقابلہ کیا ہے۔ ’بلاشبہ  کشمیریوں کا انصاف اور حق خود ارادیت کےحصول کے لیے عزم غیر متزلزل اور دائمی ہے۔ ‘
 
پانچ اگست 2019 کو انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت یا خود مختاری کو آئینی ترامیم کے ذریعے منسوخ کر دیا تھا-
 
کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر پاکستان نے انڈیا کے ساتھ ساتھ اپنے سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی دہلی سے اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا لیا تھا اور انڈیا تجارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 
پاکستان میں اب 5 اگست کو ’یوم استحصال‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
 
وزیراعظم شہباز نے بیان میں کہا کہ 5 اگست 2019 سے انڈیا نے ’مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی غیر قانونی اور یک طرفہ کاروائیوں میں مزید اضافہ کیا ہے جس کا مقصد  مقامی آبادی کے تناسب اور سیاسی صورت حال کو تبدیل کرنا ہے۔‘
 
انہوں نے کہا کہ خوفناک قوانین کو لاگو کرتے ہوئے انڈیا نے منظم انداز میں ’ظلم و بربریت اور اشتعال انگیزی‘ کا نظام قائم کر رکھا ہے تاکہ کشمیری عوام کی جائز سیاسی آوازوں اور خواہشات کو دبایا جا سکے۔
 
انڈیا 5 اگست 2019 کے اقدامات کو اپنے ملک کا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔
 
رواں سال مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان شدید لڑائی ہوئی جس میں دونوں جانب سے میزائل، ڈرونز اور جدید اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ 4 روزہ لڑائی 10 مئی کو امریکہ کی ثالثی سے ختم ہو گئی اور دونوں ملکوں نے سیز فائر پر اتفاق کر لیا لیکن جنوبی ایشا کے دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی برقرار ہے۔
 
صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کیوںکہ اس دن انڈین افواج نے ’سری نگر پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔‘
 
انہوں نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھی انڈیا نے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی۔ ’انڈیا کشمیریوں کو ان کی ہی سرزمین میں اقلیت میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
 
صدر زرداری نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارومدار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر ہے۔ ’انڈیا کے حالیہ جارحانہ اقدامات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پاکستانی جنرل کا دورہ بنگلہ دیش، دونوں ملکوں میں ملٹری ٹو ملٹری تعاون کے فروغ کا عزم

پیر اکتوبر 27 , 2025
Share پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات بشمول عسکری تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں […]

You May Like