کانسی کے دور کی تین ہزار سال قدیم کشتیاں دریافت

Share

کانسی کے دور کی درختوں کے تنے سے بنی تین کشتیاں، جو تین ہزار سال سے زائد عرصے تک کیچر سے بھری دریا کی تہہ میں محفوظ رہیں، باریک بینی سے کیے گئے 13 سالہ تحفظاتی منصوبے کے بعد اب عوامی نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

یہ سادہ کشتیاں، جنہیں لکڑی سے بنی کشتیاں کہا جاتا ہے، ایک ہی درخت کے تنے کو کھوکھلا کر کے تیار کی جاتی ہیں۔ تاریخی طور پر، ان میں سے کچھ قدیم کشتیوں کو مچھلی پکڑنے کے جال لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

کانسی اور فولاد کے دور سے تعلق رکھنے والی لکڑی کی نو کشتیاں 2011 میں کیمبرج شائر میں وٹلیسی کے قریب دریافت کی گئیں۔ اس کے بعد سے انہیں احتیاط کے ساتھ درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے ماحول میں محفوظ کیا گیا ہے، جس کے لیے مخصوص موم اور پانی کا محلول استعمال کیا گیا ہے۔

مسٹ فارم سے ملنے والی ان کشتیوں میں سے تین کو اب پیٹربورو کے قریب فلیگ فین آرکیالوجی پارک میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔

فلیگ فین آرکیالوجی پارک کی جنرل منیجر جیکولین مونی نے کہا: ’مسٹ فارم کی کشتیاں تین ہزار سال سے زائد عرصے تک بغیر چھیڑے پڑی رہیں، زمانے کی دلدلی خاموشی میں محفوظ۔ اب ہماری نئی نمائش کے ذریعے وہ اپنی کہانی سنانے کے لیے سامنے آ رہی ہیں۔‘

’یہ صرف آثار قدیمہ کی نمائش نہیں، بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ایک طاقت ور نئے ربط کا ذریعہ ہے جو کبھی اس زمین پر رہے، کام کیا کرتے تھے اور اسی منظرنامے سے سفر کیا کرتے تھے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2011 اور 2012 میں درختوں کے تنے سے بنی ان کشتیوں کی کھدائی کے لیے مالی معاونت زمین کے مالک فورٹیرا نے فراہم کی، جو تعمیراتی مصنوعات بنانے والی ایک کمپنی ہے، تاکہ کان کنی شروع ہونے سے پہلے یہ کام مکمل ہو جائے۔

 کیمبرج آرکیالوجیکل یونٹ میں آثار قدیمہ کی محقق آئونا رابن سن کا کہنا ہے کہ ’مسٹ فارم کی درختوں کے تنے سے بنی کشتیاں ایک غیر معمولی دریافت ہیں۔ وہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ سادہ لیکن نہایت مؤثر کشتیاں تقریباً ایک ہزار سال تک دلدلی دریا میں آمدورفت کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔‘

ہم ان کی مختلف ساختوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ درختوں کی مختلف اقسام اور جسامتوں کی خصوصیات کو کیسے استعمال کر کے چھوٹی، پھرتیلی ڈونگی نما کشتیوں سے لے کر طویل اور پائیدار چپٹنے پیندے والی کشتیاں بنائی گئیں۔

’ان کشتیوں کو مچھلی کے جال پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا اور غالباً لوگوں کے ساتھ جانوروں اور سامان کی نقل و حمل کے لیے بھی۔‘

درختوں کے تنے سے بنی نمائش کے لیے منتخب کشتیوں میں ایک 6.3 میٹر لمبی وسطی کانسی کے دور کی بلوط کی لکڑی سے بنی کشتی شامل ہے جس کے اندرونی حصے میں جگہ جگہ جلنے کے نشان ہیں۔ 2.2 میٹر لمبا کانسی کے وسطی دور کی بلوط سے بنی کشتی کا ایک ٹکڑا جس کی ساخت کے اندر نہایت باریک بینی سے کی گئی مرمت دکھائی دیتی ہے، اور 0.8 میٹر لمبا ابتدائی کانسی کے دور کی فیلڈ میپل کی لکڑی سے بنی کشتی کا ایک ٹکڑا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

انڈین جنرل کا ملکی دفاعی صنعت پر برہمی اور عدم اعتماد کا اظہار

اتوار نومبر 16 , 2025
Share انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے اپنے ملک کی اسلحہ ساز کمپنیوں پر اسلحے کی ہنگامی خریداری کی صورت میں بروقت فراہمی میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔ انڈین دارالحکومت دہلی میں جمعے کو یو ایس آئی کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب میں انہوں […]

You May Like