مسجد ابراہیمی میں فلسطینیوں کے لیے پہنچنا کتنا مشکل؟

Share

فلسطینی شہر الخلیل میں پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے موسوم ابراہیمی مسجد (مسجد الابراہیمی) تک پہنچنا آج مقامی فلسطینی مسلمانوں کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو چکا ہے۔

تحقیقات کار اور صحافی تزئین حسن نے گذشتہ دنوں اس مسجد کا انڈپینڈنٹ اردو کے لیے خصوصی طور پر دورہ کیا اور وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس مشکل کی بنیادی وجہ اسرائیلی چیک پوائنٹس، باڑیں اور رکاوٹیں ہیں، جنہوں نے مسجد کو چاروں طرف سے گھیرا ہوا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے نہ صرف مسجد آنے والے نمازیوں بلکہ آس پاس رہنے والے عام فلسطینی شہریوں کی آمد و رفت پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان چیک پوائنٹس کا مقصد یہودی آباد کاروں کا تحفظ، اسلحے کی سمگلنگ کی روک تھام اور کشیدگی والے علاقے میں سکیورٹی قائم رکھنا ہے۔

لیکن فلسطینی شہری ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں۔

مسجد الابراہیمی، جسے حرم الخلیل بھی کہا جاتا ہے مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں کے لیے ایک نہایت اہم مقدس مقام ہے۔ اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے مقبرے اور ان کی بیویوں کی قبریں واقع ہیں۔

فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ چیک پوائنٹس دراصل مذہبی آزادی کو محدود کرنے، شہر کو تقسیم کرنے اور فلسطینی آبادی پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں سکیورٹی نہیں بلکہ اجتماعی سزا کی صورت اختیار کر چکی ہیں، جس کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لوگ نماز کے لیے جاتے ہوئے گھنٹوں چیک پوائنٹس پر روکے جاتے ہیں، بزرگوں اور بچوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات انہیں بلا کسی واضح وجہ کے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

1967 میں مغربی کنارے پر کنٹرول حاصل کرنے کے فوراً بعد اسرائیلی حکومت نے الخلیل کے اطراف یہودی بستیاں قائم کرنا شروع کر دیں۔ فلسطینی شہریوں کے مطابق ان بستیوں کی موجودگی نے ان کی زندگی کو عدم تحفظ، خوف اور مسلسل دباؤ میں بدل دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں، گالم گلوچ اور بعض اوقات جسمانی حملوں کا سامنا رہتا ہے، مگر ان کے خلاف رپورٹیں شاذ و نادر ہی موثر ثابت ہوتی ہیں۔

سن 1994میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران ایک یہودی آباد کار اور امریکی ڈاکٹر نے ابراہیمی مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 29 فلسطینی مسلمان جان کھو بیٹھے جبکہ سو سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد اسرائیلی حکومت نے مسجد کو چھ ماہ کے لیے بند کر دیا۔

اس عرصے کے بعد جب مسجد دوبارہ کھولی گئی تو اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا: ایک حصہ مسلمانوں کے لیے اور دوسرا یہودی عبادت گزاروں کے لیے مختص کر دیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی مسجد کے گرد سخت سکیورٹی زون قائم کیا گیا، پرانے شہر اور بازار میں چیک پوائنٹس، باڑیں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔

فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے شہر کو ایک زندہ قبرستان جیسی حالت میں بدل دیا ہے۔

فلسطینی شہریوں کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا اصل مقصد انہیں ان کے تاریخی، مذہبی اور سماجی مرکز سے کاٹنا ہے تاکہ آہستہ آہستہ شہر کی آبادی کا تناسب بدلا جا سکے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ اگر یہ اقدامات واقعی سکیورٹی کے لیے ہیں تو ان کا خمیازہ صرف فلسطینی ہی کیوں بھگتیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ٹیٹو بنوانے کے بعد پولش شہری کے جسم کے بال کیوں جھڑ گئے؟

ہفتہ جنوری 10 , 2026
Share پولینڈ کے ایک شہری کے ٹیٹو بنوانے کے بعد جسم کے تمام بال جھڑ گئے اور انہیں پسینہ آنا بند ہو گیا۔ یہ بات ایک تحقیق میں بتائی گئی جس میں جسم پر لگائی جانے والی سیاہی کے اجزا کے بہتر قواعد پر زور دیا گیا ہے۔ 36 سالہ شخص نے 2020 میں […]

You May Like