سعودی عرب کی بلوچستان میں حملوں کی مذمت، پاکستان سے یکجہتی کا اظہار

Share

سعودی عرب نے ہفتے کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے متعدد اضلاع میں منظم تشدد کی لہر میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی اموات کے بعد اسلام آباد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

پاکستانی فوج نے ہفتے کو بتایا تھا کہ اس کی فورسز نے بلوچستان میں 31 جنوری کو ہونے والے مربوط حملوں کو ناکام بنا دیا اور کارروائیوں میں تین خودکش حملہ آوروں سمیت 92 عسکریت پسند مارے گئے۔ یہ کارروائیاں کوئٹہ، گوادر، مستونگ اور خاران سمیت کئی شہروں میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد کی گئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 فوج کا کہنا ہے کہ گوادر اور خاران میں محنت خاندانوں پر حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 18 عام شہری جان سے گئے جب کہ کلیئرنس آپریشنز اور مسلح جھڑپوں کے دوران 15 سکیورٹی اہلکار بھی جانب سے گئے۔

بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند شورش کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’مملکت ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے اپنے پختہ مؤقف کا اعادہ کرتی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اس کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی سکیورٹی کوششوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔‘

سعودی وزارت خارجہ نے حملوں میں جان سے جانے والے پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی، جبکہ استحکام اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اس سے قبل پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ ’صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسند عناصر کی جانب سے کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مملکت سعودی عرب دہشت گردی اور انتہاپسندی کی تمام کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے اپنے مؤقف کی تجدید کرتی ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایران پر ممکنہ حملے کے سائے: مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے کون سے جنگی اثاثے ہیں؟

اتوار فروری 1 , 2026
Share ایران پر ممکنہ حملے کی گونج میں بحری جہاز، طیارے، میزائل نظام اور دوسرے جنگی اور دفاعی اثاثوں پر مشتمل امریکہ کی ایک بڑی عسکری قوت مشرق وسطیٰ پر مرتکز ہو رہی ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بڑا آرماڈا‘ قرار دیا ہے۔ اس بحری بیڑے کے مرکز میں ایٹمی […]

You May Like