اسلام آباد حملے کے بعد پاکستان کا اسرائیل پر عسکری پراکسیز کی حمایت کا الزام

Share

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک جان لیوا خودکش حملے کے بعد پیر کو الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل پراکسیز کی حمایت اور پشت پناہی کر رہا ہے، جو اس خطے میں عسکریت پسند حملوں میں سرگرم ہیں۔

6 فروری کو اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ سے متصل مسجد پر خودکش حملے میں کم از کم 31 افراد جان سے گئے جبکہ لگ بھگ 170 افراد زخمی بھی ہوئے۔

پاکستان کو بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کا سامنا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔ 

حالیہ برسوں میں اسلام آباد میں ہونے والا یہ جان لیوا ترین حملہ تھا اس سے قبل نومبر 2025 میں وفاقی دارالحکومت کی ضلعی کچہری کے باہر خودکش حملے میں 12 افراد جان سے گئے تھے۔

خواجہ آصف نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر The Resonance (@Partisan_12) نامی صارف کے پیغام کو دوبارہ پوسٹ کیا اور لکھا کہ ’’آلہ کار (پراکسیز) سرپرستوں پر حملہ نہیں کرتے کیوں کہ ان کی وفاداری ان کے ساتھ ہوتی ہے۔‘

خواجہ آصف نے اپنے پیغام میں اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خود کش حملے کا ذکر تو نہیں کیا ان کا اشارہ بہت واضح ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خطے کے اندر اور اس کے اردگرد سرگرم زیادہ تر دہشت گرد گروپوں کا تعلق اسرائیل کے ساتھ ہے۔‘

The Resonance کی پوسٹ میں مشرق وسطیٰ کے نقشے کی تصویر لگائی گئی ہے جس میں اسرائیل کے علاوہ خطے کے دوسرے کئی ممالک کے ناموں کے گرد سرخ دائرے لگائے گئے ہیں۔

اس پوسٹ پر صرف ایک فقرہ درج ہے: ’یاد دہانی: اسرائیل کے آس پاس کے ہر ملک پر داعش نے حملہ کیا ہے۔‘  

اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری ’دہشت گرد‘ تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

پاکستانی حکام نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ اس کے تانے بانے بھی افغانستان سے ملتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’سب سے اچھی بات یہ ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا داعش کا ماسٹر مائنڈ بھی پکڑا گیا ہے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ’اس سارے واقعے کی منصوبہ بندی اور ٹریننگ داعش افغانستان نے کی ہے اور افغانستان کے اندر ہوئی ہے۔‘

پاکستان کا الزام رہا ہے کہ انڈیا کے حمایت یافتہ ’دہشت گرد‘ افغانستان میں سرگرم ہیں جہاں سے وہ پاکستانی علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تاہم افغانستان اس کی تردید کرتا ہے۔

بڑھتے ہوئے عسکریت پسند حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور اکتوبر 2025 سے پاکستان نے افغانستان سے اپنے سرحدی راستے بند کر رکھے ہیں۔

پاکستان کی قیادت اس سے قبل اسرائیل کو غزہ میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کو مرتکب ٹھہراتے ہوئے اس کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر چکی ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

غیر مسلح ہوں گے نہ غیر ملکی تسلط قبول: حماس

پیر فروری 9 , 2026
Share حماس کے ایک سینیئر رہنما نے اتوار کو کہا کہ فلسطینی تحریک ہتھیار ڈالے گی نہ غزہ میں غیر ملکی مداخلت کو قبول کرے گی۔ خالد مشعل نے دوحہ میں ایک کانفرنس میں کہا، ’مزاحمت، اس کے ہتھیاروں اور اسے انجام دینے والوں کو مجرم بنانا ایک ایسی چیز […]

You May Like