جنگ کے اثرات، پاکستان سٹاک ایکسچینج انڈیکس میں 16 ہزار پوائنٹس کی کمی

Share

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جنگ کا دائرہ کار پھیل رہا ہے اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے دن (آج پیر کو) شدید فروخت کے دباؤ کے باعث ہنڈریڈ انڈیکس ایک ہی روز میں ساڑھے نو فیصد تک گر گیا اور 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا اختتام تاریخی مندی پر ہوا، جہاں شدید فروخت کے باعث ہنڈریڈ انڈیکس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

کاروباری دن کے دوران ہنڈریڈ انڈیکس ساڑھے نو فیصد تک گر گیا اور ایک موقع پر کم ترین سطح 151,747 پوائنٹس تک آ گیا۔ دن کے اختتام پر انڈیکس 16,089 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 151,972 کی سطح پر بند ہوا۔

واضح رہے کہ گذشتہ کاروباری روز ہنڈریڈ انڈیکس 168,062 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں آج مارکیٹ میں غیر معمولی مندی دیکھنے میں آئی۔

اس غیر معمولی مندی کے بعد قواعد کے مطابق کاروبار60 منٹ کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔

اس وقفے کے بعد پانچ منٹ کا پری اوپن سیشن ہوا اور پھر دوبارہ ٹریڈنگ شروع ہوئی۔

مارکیٹ میں مندی کا رجحان

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے معاشی ماہر شہریار بٹ نے کہا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں سٹاک مارکیٹ میں اس نوعیت کی شدید گراوٹ پہلے کبھی دیکھنے میں آئی۔‘ 

ان کے مطابق اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا کی بڑی مارکیٹس بھی مندی کا شکار ہیں، جس کی بنیادی وجہ موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ انڈین اور جاپان کی مارکیٹس بھی دباؤ میں ہیں، جبکہ مڈل ایسٹ کی مارکیٹس بھی دو دن کے لیے بند کر دی گئیں ہیں۔ 

’اور انہی عالمی رجحانات کے اثرات پاکستان سٹاک مارکیٹ پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔‘

شہریار بٹ کا کہنا تھا کہ عالمی عوامل کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے داخلی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ 

’ان میں افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، آئی ایم ایف کے وفد کی آمد اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات کےاہداف میں 429 ارب روپے کی کمی شامل ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’مجموعی طور پر مارکیٹ میں حالیہ گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال ہے، جس کے اثرات خطے سمیت عالمی معیشت پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 سابق ڈائریکٹر پاکستان سٹاک ایکسچینج ظفر موتی نے مارکیٹ میں شدید مندی پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ ’ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے پورے مشرق وسطیٰ کو غیریقینی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات عالمی منڈیوں کے علاوہ مقامی سٹاک مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ آنا غیر معمولی بات نہیں ہے۔ 

تاہم موجودہ کاروباری ماحول خاصا غیر یقینی ہے اور حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔ 

’اگر یہ کشیدگی طویل مدت تک برقرار رہی تو منڈی پر اس کے مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

ظفر موتی نے مزید کہا کہ ’دوسری جانب آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور امید ہے کہ پاکستان کو کچھ نہ کچھ سہولت حاصل ہو جائے گی۔

’تاہم اس سہولت کی نوعیت اور حجم کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔‘

ان کے مطابق دنیا اس وقت بڑے معاشی اور سیاسی مسائل سے گزر رہی ہے اور جنگ یا کشیدگی کے اثرات بالآخر ان ممالک پر بھی پڑتے ہیں جن کا اس صورتحال سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق ہوتا ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایران جنگ: تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل ہونے کا خدشہ

پیر مارچ 2 , 2026
Share تیل کے تاجروں کے مطابق اتوار کو برینٹ کروڈ کی قیمت اوور دی کاؤنٹر ٹریڈ میں تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جو ایران جنگ کے بعد 10 فیصد کا اضافہ ہے۔  تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرق […]

You May Like