|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو آج 24 واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کے تازہ ترین اپ ڈیٹس پیش خدمت ہیں۔ |
صبح آٹھ بج کر 40 منٹ پر
ایران پر اسرائیلی حملوں کی نئی لہر، تہران میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا
اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو علی الصبح ایران کے دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مقامی میڈیا مہر نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا کہ ’تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔‘ فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ فضائی حملوں میں ایرانی دارالحکومت کے پانچ علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ’دھماکوں کی خوفناک آوازیں رپورٹ ہوئی ہیں۔‘
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ ان اطلاعات کے ایک گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی مشرقی تہران کے ایک مقام سے سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے تھے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پیر کو بتایا کہ جنوبی ایران میں ایک براڈکاسٹ سٹیشن پر حملے میں کم از کم ایک شخص کی موت ہوئی۔
ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’تہران میں ایرانی دہشت گرد حکومت کی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملوں کی ایک لہر شروع کر دی ہے۔‘ اے ایف پی
صبح آٹھ بج کر 20 منٹ پر
ریاض کی جانب دو میزائل داغے گئے: سعودی عرب
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ دو بیلسٹک میزائل ریاض ریجن کی جانب داغے گئے، جن میں سے ایک کو روک لیا گیا جبکہ دوسرا غیر آباد علاقے میں گرا۔
صبح چھ بج کر 20 منٹ پر
امریکہ نے بجلی گھر پر حملہ کیا تو آبنائے ہرمز ’مکمل‘ بند کر دیں گے: ایران
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس کے بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو تیل اور دیگر برآمدات کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو فوری طور پر ’مکمل طور پر بند‘ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ہفتے کی رات کو آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد توانائی کے ایرانی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکہ اور ایران نے اتوار کو اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی جب کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ نے، جو اب اپنے چوتھے ہفتے میں ہے، پورے خطے میں انسانی جانوں اور روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایران کی عسکری کمان نے امریکی ڈیڈ لائن کا ڈٹ کر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ نے ایسا کیا تو وہ اسرائیل کے ’بجلی گھروں، توانائی اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے‘ کے ساتھ ساتھ امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے خطے کے ممالک کے بجلی گھروں اور امریکی شیئر ہولڈرز والی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنائے گی۔
آپریشنل کمان نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران کے بجلی گھروں کے حوالے سے امریکہ کی دھمکیوں پر عمل کیا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک ہمارے تباہ شدہ بجلی گھر دوبارہ تعمیر نہیں ہو جاتے۔‘

