اسلام آباد میں رین ہارویسٹنگ لازمی، کامیاب منصوبے چلانے والے عثمان

Share

اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیر زمین پانی کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، لیکن اس بحران کے بیچ محمد عثمان جیسے شہری اپنی مدد آپ کے تحت ایسے عملی اقدامات کر رہے ہیں جو نہ صرف امید دلاتے ہیں بلکہ حل کا راستہ بھی دکھاتے ہیں۔

عثمان اور ان جیسے کئی افراد نے رین واٹر ہارویسٹنگ کے چھوٹے مگر مؤثر منصوبے شروع کیے ہیں، جن کے نتائج حیران کن ہیں۔

بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا یہ نظام نہ صرف پانی کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے بلکہ زیر زمین واٹر ٹیبل کو بھی بتدریج بہتر کرتا ہے۔

اسی کامیابی سے متاثر ہو کر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بھی اس نظام کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

شہریوں کے لیے گھروں کی چھتوں پر رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کی تنصیب لازم قرار دے دی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے چھ ماہ کی مہلت کے ساتھ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔

عثمان کے مطابق حالیہ بارشوں میں دیکھا گیا کہ گلیوں میں جمع ہونے والا پانی چند ہی منٹوں میں ان کے نصب کردہ ان پٹس کے ذریعے زمین میں جذب ہو گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک پٹ تقریباً 40 ہزار لیٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کسی بھی علاقے کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے۔

عثمان اب تک سینکڑوں رین واٹر ہارویسٹنگ پٹس اور ری چارجنگ سسٹمز نصب کر چکے ہیں۔

ایک رہائشی محمد ادریس بتاتے ہیں کہ ان کی مسجد میں 500 فٹ گہرے بورنگ کا پانی پہلے کھارا اور ناقابل استعمال تھا، لیکن پٹس کی تنصیب کے بعد پانی نہ صرف صاف ہونا شروع ہو گیا بلکہ اب وہ میٹھا بھی ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیر زمین پانی کی سطح چند برسوں کے دوران 200 فٹ سے کم ہو کر کئی مقامات پر 500 سے 800 فٹ تک جا پہنچی ہے جو ایک تشویش ناک صورت حال ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک پاکستان شدید آبی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You May Like