وزیر خزانہ کی منیجنگ ڈائریکٹر ورلڈ بینک سے ملاقات

Share

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو واشنگٹن میں ورلڈ بینک گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) انا بیردے سے ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے اثرات سے نمٹنے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب واشنگٹن میں ہیں جہاں وہ پیر کو عالمی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ اور ورلڈ بینک کے سالانہ سپرنگ اجلاسوں میں ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے یہ اجلاس 13 اپریل سے 18 اپریل تک واشنگٹن میں منعقد ہوں گے، جن میں مرکزی بینکرز، وزرائے خزانہ اور نجی شعبے کے رہنما عالمی معیشت اور مالی استحکام پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ان اجلاسوں میں سیمینار، بریفنگ اور مکمل اجلاس شامل ہوں گے، جن میں بین الاقوامی مالیاتی و مالیاتی کمیٹی (آئی ایم ایف سی) کا اجلاس بھی شامل ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پیر کو ہونے والی ملاقات میں محمد اورنگزیب پاکستان میں معاشی اصلاحات اور ترقیاتی ایجنڈے کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی مسلسل حمایت کو سراہا۔

بیان میں بتایا گیا کہ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بیرونی دباؤ کے اثرات سے عوام کے کمزور طبقات کو بچانے کے لیے سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

بیان کے مطابق اس دوران مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت پر تسلی کا اظہار اور طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے مزید مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر خزانہ نے پاکستان کے آبادی سے متعلق چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس ضمن میں انہوں نے ورلڈ بینک سے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کرنے میں تعاون کی درخواست کی۔

اس سے قبل محمد اورنگزیب نے اتوار کو ہاورڑ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان کی معاشی صورت حال پر ایک پینل مباحثے میں حصہ لیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق، محمد اورنگزیب نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بروقت مکمل کرے گا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات پر مبنی ترقی اور تجارت کے فروغ پر توجہ دینا ضروری ہے۔

وزارت خزانہ نے مزید کہ ’انہوں نے نشاندہی کی کہ مشکل مگر ضروری فیصلوں میں تاخیر نے ماضی میں ترقی کو نقصان پہنچایا، جس کے باعث معیشت بار بار بحران کا شکار ہوئی اور آئی ایم ایف پروگرامز پر انحصار بڑھتا گیا۔‘

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)  کے درمیان  جولائی 2024 میں سات ارب ڈالر  کے قرض کے نئے پروگرام پر سٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا اور موجودہ حکومت ٹیکس محصولات میں اضافے کے لیے بھی کوشاں ہے تاکہ ملک کی معشیت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

چین کے اے آئی نے ایک دہائی پرانا ریاضی کا مسئلہ حل کر لیا

منگل اپریل 14 , 2026
Share نئی تحقیق کے مطابق چین کے مصنوعی ذہانت کے نظام نے امریکی ریاضی دان کے ایک دہائی قبل پیش کردہ مسئلے کو حل کر لیا ہے۔ یہ الجبرا کا مفروضہ (Algebra Conjecture) پہلی بار 2014 میں یونیورسٹی آف آئیووا کے پروفیسر ڈین اینڈرسن نے پیش کیا تھا، جن کا […]

You May Like