خیبر پختونخوا میں پولیس نے منگل کو بتایا ہے کہ باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے 16 علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس نے اعلامیے میں یہ نہیں بتایا کہ کرفیو کا نفاذ کب تک رہے گا۔
باجوڑ میں حال میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے جہاں 10 جولائی کو باجوڑ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما مولانا خان زیب کو قتل کر دیا تھا۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کے مدنظر 16 علاقوں میں کرفیو نافذ ہو گا۔‘
بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کرفیو کے دوران ’گھروں سے نہ نکلیں تاکہ کوئی ناخشگوار واقع پیش نہ آئے بصورت دیگر ہر قسم کے نقصان کے ذمہ دار (کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والا) خود ہو گا۔‘
باجوڑ پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کو بتایا کہ شدت پسندوں کے خلاف آج سے ’ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا گیا ہے اور علاقے میں 31 جولائی تک کرفیو نافذ رہے گا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
باجوڑ کے اس علاقے کے ایک رہائشی جو آپریشن ایریا میں شامل ہے نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مرکزی شاہراوں پر موجود تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’علاقے میں سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت دیکھی جا سکتی جبکہ کسی کو بھی باہر آنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
چار جولائی کو باجوڑ میں اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی پر بم حملے میں اسسٹنٹ کمشنر نواگئی فیصل اسماعیل اور تحصیل دار سیمت چار افراد جان سے گئے تھے۔
داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ بارودی مواد سے بھری موٹرسائیکل کے ذریعے اس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

