صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دنیا کے نصف سے زائد ممالک اب صحافتی آزادی کے حوالے سے ’مشکل‘ یا ’انتہائی سنگین‘ حالت میں ہیں۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق گذشتہ 25 برسوں میں ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں شامل 180 ممالک اور خطوں کا اوسط سکور کبھی بھی اتنا کم نہیں رہا۔
آر ایس ایف کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق 2001 کے بعد سے سخت قانونی اقدامات، خاص طور پر قومی سلامتی سے متعلق قوانین میں اضافے نے معلومات تک رسائی کے حق کو مسلسل کمزور کیا ہے، یہاں تک کہ جمہوری ممالک میں بھی یہ رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ انڈیکس دنیا کے 180 ممالک کا جائزہ لیتا ہے اور اسے پانچ بنیادی عوامل کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے: سیاسی ماحول، قانونی فریم ورک، معاشی حالات، سماجی و ثقافتی دباؤ اور صحافیوں کی سلامتی۔
آر ایس ایف کی اس رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران قانونی اشاریہ (لیگل انڈیکیٹر) میں سب سے زیادہ کمی آئی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں صحافت کو بتدریج جرم بنایا جا رہا ہے۔
اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں امریکہ سات درجے نیچے چلا گیا ہے وہیں لاطینی امریکہ کے کئی ممالک تشدد اور جبر کے بڑھتے ہوئے چکر میں مزید پھنس گئے ہیں۔
اسی طرح انڈیکس کے قانونی اشاریے میں اس سال سب سے زیادہ شدید کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ سکور 2025 اور 2026 کے درمیان 60 فیصد سے زیادہ ریاستوں، یعنی 180 میں سے 110 میں خراب ہوا ہے۔
’یہ خاص طور پر انڈیا (157ویں)، مصر (169ویں)، اسرائیل (116ویں) اور جارجیا (135ویں) کے معاملے میں واضح ہے۔ صحافت کو جرم قرار دینا، جو پریس قوانین کو نظرانداز کرنے اور ہنگامی قانون سازی اور عام قوانین کے غلط استعمال میں جڑا ہوا ہے، ایک عالمی رجحان ثابت ہو رہا ہے۔‘
آر ایس ایف کے مطابق اس بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ صرف ’سیاسی دباؤ یا تشدد نہیں بلکہ معاشی بحران بھی ہے، جو اب صحافت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’میڈیا ادارے کم ہوتی آمدنی، اشتہارات میں کمی اور مالی انحصار کے باعث اپنی خودمختاری کھو رہے ہیں، جس سے سنسرشپ اور خود سنسرشپ میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ دنیا میں میڈیا کی ملکیت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جا رہی ہے، جس سے مختلف آرا اور آزاد آوازوں کے لیے جگہ محدود ہو رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ’صحافیوں کو ہراساں کرنے، گرفتار کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے‘ کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
آر ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بہت سے ممالک میں ’حکومتیں اور بااثر عناصر میڈیا پر دباؤ ڈال رہے ہیں، معلومات تک رسائی محدود کی جا رہی ہے اور قوانین کو استعمال کر کے تنقیدی آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے۔‘
آر ایس ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر صحافت کے لیے معاشی اور قانونی تحفظ کو مضبوط نہ بنایا گیا تو عالمی سطح پر قابلِ اعتماد معلومات تک رسائی مزید محدود ہو جائے گی، جو جمہوری نظاموں کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اپریل 2025 سے مارچ 2026: پاکستان میں دو صحافی قتل جبکہ 16 پر حملے ہوئے، رپورٹ
ادھر پاکستان بھر میں ایک سال کے دوران صحافیوں اور دیگر میڈیا پروفیشنلز کے خلاف تشدد کے 129 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں ان میں دو قتل، پانچ قتل کی دھمکیاں، 58 قانونی مقدمات (زیادہ تر پیکا ایکٹ کے تحت درج کیےگئے)، 16 حملے، 11 سنگین دھمکیاں اور دو اغوا و جبری گمشدگی کے واقعات شامل ہیں۔
یہ اعدادوشمار پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی ایوارڈ یافتہ تنظیم ’فریڈم نیٹ ورک‘ کی جانب سے جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ برائے 2026 میں ذکر کیا گیا ہے۔
’اظہارِ رائے کی آزادی پر ضابطہ جاتی جبروقانونی کنٹرول اور پیکا قوانین کے ذریعے میڈیا و صحافت پر قدغن‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقے قرار دیے گئے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں قتل کے واقعات نے صحافیوں کو درپیش خطرات کو مذید سنگین بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز قوانین (پیکا) میں کی گئی ترامیم کو صحافیوں اور اظہار رائے کو دبانے کے لیے سب سے مووثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔جس کی وجہ سے پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران میڈیا اور آزادی اظہار کو درپیش مسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کا میڈیا جبر، سنسرشپ اور معاشی کمزوری کے دائرے میں پھنسا رہے گا، جس کے جمہوری احتساب اور آزادی اظہار پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

