غزہ میں قحط کی وجہ ’اسرائیل کا احتساب نہ ہونا‘ ہے: سعودی عرب

Share

سعودی عرب نے غزہ میں قحط کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی تباہی کی وجہ اسرائیل کا جرائم پر احتساب نہ کیا جانا ہے۔  

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسی فکیشن (آئی پی سی)  کی رپورٹ اور غزہ کی پٹی میں قحط کے سرکاری اعلان کے بعد جمعے کو گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے نہتے شہریوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم کی مذمت کی۔

سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’مملکت اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی تباہی براہ راست اس وجہ کا نتیجہ ہے کہ اسرائیلی قبضے کی جانب سے بار بار کیے جانے والے جرائم کی نہ تو کوئی روک تھام ہے اور نہ ہی احتساب کا کوئی نظام۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہ صورت حال عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے اخلاقی وقار پر داغ بنی رہے گی جب تک کہ قحط کے خاتمے اور اسرائیلی قبضے کی جانب سے برادر فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی اور جرائم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے جائیں۔‘

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بھی اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کے بعد غزہ میں قحط کو ’اخلاقی طور پر قابل نفرت‘ اور ’انسان کی پیدا کردہ تباہی‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

ڈیوڈ لیمی نے ایک بیان میں کہا کہ ’غزہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں قحط کی تصدیق نہایت خوفناک ہے اور اسے مکمل طور پر روکا جا سکتا تھا۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے مناسب امداد کے غزہ میں داخلے سے انکار نے اس انسان کے پیدا کردہ تباہی کو جنم دیا۔ یہ ایک اخلاقی طور پر قابل نفرت عمل ہے۔‘

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ کے شہریوں کی بنیادی ضروریات یعنی خوراک، پانی اور دواؤں کو پورا کرنا چاہیے۔

 آئی سی آر سی کا یہ بیان جمعے کو قحط کے ’تباہ کن اور پوری طرح متوقع‘ اعلان کے بعد سامنے آیا۔

آئی سی آر سی نے ایک بیان میں کہا کہ ’بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون کے تحت، اسرائیل، ایک قابض طاقت کے طور پر، ان تمام وسائل کو استعمال کرتے ہوئے جو اس کے پاس موجود ہیں، اسے غزہ کی شہری آبادی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔‘

 بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینی علاقے میں قحط کے اعلان کو’فوری اور ٹھوس کارروائی کے لیے ایک محرک کا کام کرنا چاہیے۔‘

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹرک نے جمعے کو غزہ کی پٹی میں قحط کے اعلان کے چند منٹ بعد کہا کہ ’جنگی حربے کے طور پر بھوک کا استعمال کرنا ایک جنگی جرم ہے۔‘

وولکر ٹرک نے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات ’جان بوجھ کر قتل کے جنگی جرم کے بھی مترادف ہو سکتی ہیں۔‘

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کا کہنا تھا کہ ’ہم اس صورت حال کو بلا روک ٹوک جاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

گوتریش نے ’فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی اور مکمل و بلا رکاوٹ انسانی رسائی‘ پر بھی زور دیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

’بلیک مارکیٹ اوزیمپک‘: خوبصورتی کے جنون کی مہنگی قیمت

ہفتہ اگست 23 , 2025
Share ایزلین ہورگن والیس، جو بگ برادر کی سابقہ سٹار ہیں، کو آن لائن خریدے گئے ایک مشتبہ جعلی وزن کم کرنے والے انجیکشن سے ایسا شدید ردِعمل ہوا کہ وہ ایک آنکھ کی بینائی سے عارضی طور پر محروم ہو گئیں۔ ہورگن والیس کو شدید قے اور ناقابلِ برداشت درد […]

You May Like