امریکی بحری ناکہ بندی نفسیاتی جنگ ہے: باقر قالیباف
ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ بحری ناکہ بندی کو محض معاشی دباؤ کے طور پر نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ ایران کے اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر نظام کو کمزور کیا جا سکے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر باقر قالیباف نے بدھ کو کہا کہ ’دشمن ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور بحری ناکہ بندی اور میڈیا پروپیگنڈے کے ذریعے معاشی دباؤ اور اندرونی تقسیم کو بڑھا کر ہمیں اندر سے کمزور یا حتیٰ کہ ختم کرنا چاہتا ہے۔‘
انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اتحاد برقرار رکھیں، اور اسے ایسی حکمت عملی کے خلاف واحد مؤثر دفاع قرار دیا جس کا مقصد ایران کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ قالیباف حالیہ جنگ کے بعد ایران کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور اب تک ہونے والے واحد براہِ راست ایران امریکہ مذاکرات میں مرکزی کردار بھی ادا کر چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی امن تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک تہران جوہری معاہدے پر آمادہ نہیں ہوتا، امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’ناکہ بندی بمباری سے زیادہ مؤثر ہے، وہ بری طرح دباؤ میں ہیں اور حالات مزید خراب ہوں گے، انہیں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو اپنے ایک تازہ بیان میں ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بہتر ہے وہ جلد عقل سے کام لیں۔‘
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر تو ہے مگر جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے جبکہ ایران کے انکار کے بعد دوسرا دور نہ ہو سکا تھا۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ ہفتے دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اپنی تجاویز پاکستان کے حوالے کی تھیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بدھ کو لکھا کہ ’ایران اپنے معاملات سنبھال نہیں پا رہا ہے۔‘
صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’انہیں (ایران) معلوم ہی نہیں کہ غیر جوہری معاہدے پر دستخط کیسے کیے جاتے ہیں۔
’بہتر ہے کہ وہ جلد عقل سے کام لیں!‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی پوسٹ کے ساتھ صدر ٹرمپ نے اپنی ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں ان کے ہاتھ میں ایک بندوق ہے اور ساتھ میں لکھا ہے کہ ’نو مور مسٹر نائس گائے۔‘
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران ’تباہی کی حالت‘ میں ہے اور جلد از جلد آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر ہی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ایران نے انہیں مطلع کیا ہے کہ وہ ’تباہی کی حالت‘ میں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ ’جلد سے جلد آبنائے ہرمز کو کھول دے۔‘
انہوں نے مزید لکھا تھا کہ ’کیونکہ وہ اپنی قیادت کی صورت حال کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں (جو مجھے یقین ہے کہ وہ کر سکیں گے!)۔‘

