چین نے مچھر کے سائز کا جاسوس ڈرون بنا لیا

Share

چین کے ایک عسکری تحقیقاتی ادارے نے ایسا جاسوس ڈرون تیار کیا ہے جو جسامت اور شکل میں بالکل مچھر جیسا ہے۔

یہ ننھا سا بغیر پائلٹ فضائی آلہ (یو اے وی) نہایت باریک ٹانگوں اور دو پروں پر مشتمل ہے اور اسے سمارٹ فون کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

چین کے صوبہ ہونان میں واقع نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی (NUDT) کے محققین نے یہ مچھر نما ڈرون تیار کیا ہے۔ اس میں ایسے سینسرز نصب ہیں جو اسے خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے مؤثر بناتے ہیں۔

 

چینی سرکاری فوجی چینل سی سی ٹی وی 7 سے بات کرتے ہوئے این یو ڈی ٹی کے طالب علم لیانگ ہی شیانگ نے کہا ’یہ جو روبوٹ میرے ہاتھ میں ہے، یہ مچھر جیسا ہے۔ اس قسم کے ننھے حیاتیاتی طرز کے روبوٹس خاص طور پر معلوماتی جاسوسی اور میدان جنگ میں خصوصی مشنوں کے لیے موزوں ہیں۔‘

 

یہ آلہ مائیکرو ڈرونز کے بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے، جنہیں تجارتی اور فوجی مقاصد دونوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اپریل میں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے مائیکرو روبوٹکس لیب نے اپنے ’روبو بی‘  ڈرون کا نیا ورژن پیش کیا، جو کرین فلائی (لمبے پروں والا کیڑا) کی طرح اڑنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس ڈرون کو ماحولیاتی نگرانی اور قدرتی آفات کی صورت میں سرویلنس کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ مستقبل میں اسے مصنوعی پولینیشن (زر افشانی) جیسے مقاصد کے لیے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

ہارورڈ کی پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق ایلیسا ہرنینڈز نے کہا ’روبو بی حیاتیات اور روبوٹکس کے ملاپ کو جانچنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ کیڑوں کی ناقابل یقین حیاتیاتی اقسام سے متاثر ہو کر ہم روبوٹس میں مسلسل بہتری لا سکتے ہیں۔ 

’اس کے برعکس ہم ان روبوٹک پلیٹ فارمز کو حیاتیاتی تحقیق کے ٹولز کے طور پر استعمال کر کے ایسے تجربات بھی کر سکتے ہیں جو حیاتیاتی میکانزم کے مفروضوں کو پرکھتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی فوج بھی نارویجن کمپنی سے مائیکرو ڈرونز خرید چکی ہے جنہیں سرویلنس مشنز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 

ان ’بلیک ہارنیٹ‘ ڈرونز میں کیمرے اور تھرمل امیجنگ کی سہولت ہوتی ہے اور یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ جیب میں سما سکتے ہیں۔

 

2006 سے امریکی محکمہ دفاع کی خفیہ تجربہ گاہ ڈی اے آر پی اے (DARPA) ہائبرڈ انسیکٹ ڈرونز پر بھی کام کر رہی ہے۔ 

 

ان میں چھوٹے الیکٹرانک آلات کو حقیقی کیڑوں میں نصب کر کے ’سائبورگ‘ کیڑوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

 

یہ سائبورگ کیڑے بجلی کے سگنلز کے ذریعے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔ اس میں لال بیگ اور بھونروں کو نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پاکستان: گلیشیائی جھیل پھنٹے کا خطرہ، گلگت میں ایک ہوٹل سے زمینی رابطہ منقطع

جمعرات جون 26 , 2025
Share پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیل کے پھٹنے (GLOF) کا انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کئی علاقوں میں سیلاب آ سکتے ہیں۔ این ڈی ڈی ایم نے بدھ کی شام اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’شدید […]

You May Like