ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ کے لیے منصوبے پر وائٹ ہاؤس میں بڑا اجلاس آج

Share

امریکی صدر کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے منگل کو بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو غزہ میں جنگ کے بعد کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبوں پر ایک اجلاس کی میزبانی کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق وٹکوف نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’کل وائٹ ہاؤس میں ایک بڑا اجلاس ہو رہا ہے، جس کی صدارت صدر کریں گے اور ہم ایک جامع منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا غزہ میں ’جنگ کے بعد کا کوئی منصوبہ‘ موجود ہے، جس کا حوالہ اسرائیل کی اس جارحیت کے اختتام کی طرف تھا، جو فلسطینی علاقے میں اکتوبر 2023 میں شروع ہوئی تھی۔

اس سال کے اوائل میں ٹرمپ نے دنیا کو اس وقت چونکا دیا، جب انہوں نے تجویز دی تھی کہ امریکہ کو غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھال لینا چاہیے، اس کے 20 لاکھ رہائشیوں کو وہاں سے نکال دینا چاہیے اور ساحلی جائیدادیں تعمیر کرنا چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ملبہ اور غیر پھٹے بم ہٹائے گا اور غزہ کو ’مشرق وسطیٰ کا ریویرا‘ میں تبدیل کرے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے اس تجویز کی تعریف کی تھی، تاہم کئی یورپی اور عرب ممالک نے اس تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

وٹکوف نے منگل کو جس منصوبے کا ذکر کیا اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں، لیکن کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ’لوگ دیکھیں گے کہ یہ منصوبہ کتنا مضبوط اور کتنا نیک نیتی پر مبنی ہے۔‘

اکتوبر 2023 کے بعد سے جاری اسرائیلی جارحیت میں کم از کم 62,819 فلسطینی جان سے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ اقوام متحدہ ان اعدادو شمار کو قابلِ اعتماد سمجھتی ہے۔

غزہ اور صحافی

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت صحافیوں کے لیے اب تک کی مہلک ترین جنگوں میں سے ایک ثابت ہوئی ہے، جس میں ، صحافتی نگرانی کے اداروں کے مطابق تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی حملے کے دوران لگ بھگ 200 میڈیا کارکن جان سے گئے۔

پیر کو جنوبی غزہ کے خان یونس علاقے میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 20 افراد جان سے گئے، جن میں الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس اور روئٹرز سمیت دیگر اداروں سے وابستہ پانچ صحافی بھی شامل تھے۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اسرائیلی دھماکہ خیز ڈرون نے ہسپتال کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایک اور فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب زخمیوں کو وہاں سے نکالا جا رہا تھا۔

منگل کو حماس نے اس اسرائیلی بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ کے ایک ہسپتال پر حملہ، جس میں متعدد صحافی بھی جان سے گئے، مزاحمتی گروہ کی جانب سے چلائے جانے والے ایک کیمرے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ 

حماس نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا: ’اسرائیل نے اس جرم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ جھوٹا دعویٰ گھڑا کہ اس نے مزاحمتی عناصر کے ایک ’کیمرے‘ کو نشانہ بنایا — یہ الزام بے بنیاد ہے، کوئی ثبوت نہیں ہے، اور صرف قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایک قتل عام پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

باجوڑ میں ٹی ٹی پی کارروائیاں مولوی فقیر محمد دیکھ رہے ہیں: جرگہ سربراہ

بدھ اگست 27 , 2025
Share صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں گذشتہ دنوں حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان مذاکرات کی کوشش کرنے والے جرگے کے سربراہ صاحبزادہ ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں شدت پسند کارروائیوں کو مولوی فقیر محمد ہی دیکھ رہے ہیں۔ باجوڑ میں قیام امن کی […]

You May Like