وکلا التوا کی درخواستوں کی روش روکیں تاکہ مقدمات کا بوجھ کم ہو: چیف جسٹس

Share

سپریم کورٹ کے نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے پیر کو کہا کہ وکلا مقدمات کے التوا کی درخواستوں کی روش کو ترک کریں تاکہ عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے بوجھ میں کمی لا جا سکے۔

اگست کی سالانہ تعطیلات کے بعد ستمبر سے سپریم کورٹ کے نئے عدالتی سال کا آغاز ہوتا ہے اور اس موقع پر چیف جسٹس تمام ججوں کی موجودگی میں ایک خصوصی کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں جس میں نہ صرف گذشتہ عدالتی سال کے دوران ہونے والی پیش رفت اور چیلنجز کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے بلکہ نئے سال میں بہتری سے متعلق لائحہ عمل کا خاکہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ عدالی سال کے دوران مقدمات کے التوا کے لیے دی گئی درخواستوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔

’وکلا کی جانب سے التوا کی درخواستوں کی تعداد۔ تعداد 25-2024 کے مقابلے میں میں تیزی سے بڑھ کر 56,449 تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال 22,425 تھی۔ مجھے آپ سب کو یاد دلانا ہے کہ بار انصاف کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے اور میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ التوا کی بڑھتی ہوئی روش کو روکنے میں مدد کریں، تاکہ زیر التواء مقدمات میں مشکل سے حاصل کی گئی کمی نہ صرف برقرار رکھی جا سکے بلکہ مزید مستحکم بھی ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گذشتہ سال 8 ستمبر 2024 کو عدالت عظمیٰ میں 60,635 مقدمات زیر التواء تھے، جبکہ اس سال 7 ستمبر 2025 تک یہ تعداد کم ہو کر 56,943 رہ گئی ہے۔‘

چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر بڑے آئینی بنچز کی طویل سماعتوں میں جج صاحبان مصروف نہ رہتے تو زیر التواء مقدمات مزید کم ہو سکتے تھے۔

سپریم کورٹ نے چیف جسٹس نے کہا اس موقع کو محض ایک رسمی تقریب نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ دن ہمارے لیے جائزہ لینے اور آئندہ کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا لمحہ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ شفافیت، جوابدہی اور کرپشن فری ماحول کسی بھی عدالتی نظام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ’اسی مقصد کے لیے ایک اینٹی کرپشن ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے، جہاں شہری بلا خوف شکایات درج کر سکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ پہلی بار عدالت کے مالیاتی امور کا آڈٹ آڈیٹر جنرل کی ٹیم سے کرایا گیا ہے اور سامنے آنے والے مسائل پر فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

’ڈیجیٹل کیس فائلنگ، ای-کاپیز، ای-افیڈیویٹس اور آن لائن سماعتوں جیسے اقدامات پہلے ہی عدالت کے کام کے طریقہ کار کو بدل رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خصوصی ’اوورسیز لٹیگنٹس فیسلیٹیشن سیل‘ قائم کیا گیا ہے، جبکہ میڈیا کے لیے بھی علیحدہ پلیٹ فارم شروع کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ترقی کا یہ سفر جاری رکھنا ہے، لیکن ابھی بہت کچھ باقی ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بیت المقدس حملے میں کم از کم پانچ اسرائیلی ہلاک

پیر ستمبر 8 , 2025
Share اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ پیر کو مشرقی مقبوضہ بیت المقدس ایک سڑک پر فائرنگ کے حملے میں چار افراد جان سے گئے اور کئی دیگر زخمی ہیں۔ میگن ڈیوڈ ادوم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایمرجنسی اور طبی ٹیموں نے ’چار […]

You May Like