سابق سینیٹر مشتاق احمد کا رہائی کے بعد ’بدترین اسرائیلی تشدد‘ کا الزام

Share

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو بتایا کہ اسرائیلی حراست میں موجود سابق سینیٹر مشتاق احمد کو رہا کر دیا گیا ہے اور اب وہ عمان پہنچ گئے ہیں جبکہ مشتاق احمد نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ دوران حراست ان پر ’بدترین تشدد‘ کیا گیا۔

تقریباً 45 کشتیوں پر مشتمل بحری قافلہ گلوبل صمود فلوٹیلا، جس پر سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد بھی سوار تھے، اگست میں سپین سے روانہ ہوا تھا تاکہ فلسطینی علاقے کی مسلسل اسرائیلی ناکہ بندی توڑی جا سکے، جہاں اقوام متحدہ کے مطابق قحط جیسی صورت حال ہے۔

تاہم اسرائیلی فورسز نے یکم اکتوبر کو غزہ کے پانیوں کے قریب فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کو روک کر ان پر سوار کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا، جن میں سابق پاکستانی سینیٹر بھی شامل تھے۔

پاکستان کی حکومت ان کی رہائی کے لیے کوشاں تھی اور منگل کو اسحاق ڈار نے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ ’مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق صاحب کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اب عمان (اردن کے دارالحکومت) میں پاکستان کے سفارتخانے کے پاس محفوظ ہیں۔‘

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’وہ (مشتاق احمد) صحت مند ہیں اور اُن کا حوصلہ بلند ہے۔ سفارت خانہ ان کی خواہش اور سہولت کے مطابق ان کی وطن واپسی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

انہیں سفارت خانے کے مطابق اپنی سہولت کے اعتبار سے واپس روانہ کیا جائے گا۔

مشتاق احمد نے رہائی کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ 150 دیگر کارکنوں کے ہمراہ اردن پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے حراست کے دوران ’ہمارے اوپر بندوقیں رکھی گئیں اور بدترین تشدد کیا گیا۔‘

پاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر کو کہا تھا کہ اردن کے تعاون سے سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیل سے واپسی کی کوشش جاری ہیں یہ عمل آئندہ چند روز میں مکمل ہو جائے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی حکام اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث سینیٹر مشتاق احمد کی واپسی کے لیے ایک با اثر یورپی ملک سے مدد حاصل کی گئی ہے۔

اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کشتیوں سے حراست میں لیے گئے بڑی تعداد میں کارکنوں کو ہفتے کو ملک بدر کرنا شروع کیا تھا۔

انسانی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی سویڈن کی شہری گریٹا تھنبرگ دیگر 160 افراد کے ہمراہ اسرائیل سے رہائی کے بعد پیر کو یونان پہنچی تھیں۔

22 سالہ گریٹا تھنبرگ ان سینکڑوں افراد میں شامل تھیں جو ایک فلوٹیلا ،جہازوں کے قافلے، پر سوار ہو کر اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یورپ واپسی پر بہت سے کارکنوں نے اسرائیلی حکام کے ہاتھوں بدسلوکی کی شکایت کی۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سعودی عرب نے ہر قسم کے ویزے پر عمرہ کی اجازت دے دی

منگل اکتوبر 7 , 2025
Share سعودی عرب کی حکومت نے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت اب وہ تمام مسلمان جن کے پاس سعودی عرب کا کوئی بھی کارآمد ویزا ہے، عمرہ ادا کر سکتے ہیں۔ سعودی وزارت حج و عمرہ نے پیر کو ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’کیا آپ […]

You May Like