اسرائیل کو شرکت کی اجازت کے بعد پانچ ملکوں کا یورو ویژن کا بائیکاٹ: ڈائریکٹر

Share

یورو وژن ایونٹ کے ڈائریکٹر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کو حصہ لینے کی اجازت ملنے کے بعد توقع ہے کہ اگلے سال کے ’یوروویژن سونگ کونٹیسٹ‘ میں تقریباً 35 ممالک حصہ لیں گے، جبکہ ’تقریباً پانچ‘ اس کا بائیکاٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سپین، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور سلووینیا کے نشریاتی اداروں نے جمعرات کو اسرائیل کی شرکت کی اجازت دینے کے فیصلے پر دنیا کے سب سے بڑے لائیو میوزک مقابلے یوروویژن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

آئس لینڈ نے کہا کہ وہ اپنی پوزیشن پر غور کر رہا ہے اور 10 دسمبر کو فیصلہ کرے گا۔

غزہ میں جنگ کی وسیع پیمانے پر مخالفت کی وجہ سے اسرائیل کو سالانہ مقابلے سے باہر کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا۔ گذشتہ سال کے ایونٹ میں اسرائیل کے حق میں ووٹنگ سسٹم میں ہیرا پھیری کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے تھے۔

فیصلے کے بعد جمعرات کی رات عوامی نشریاتی ادارے سویڈش ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے مقابلے کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے کہا، ’ہمارا اندازہ ہے کہ مئی 2026 کے مقابلے میں تقریباً 35 براڈکاسٹرز حصہ لیں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’تقریباً پانچ‘ ممالک نے ’انتہائی شدت‘ سے محسوس کیا کہ اسرائیل کو شرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، اور ’میں اس کا مکمل احترام کرتا ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’مجھے پوری امید ہے کہ وہ چند نشریاتی ادارے جو محسوس کرتے ہیں کہ وہ اگلے سال وہاں نہیں آ سکتے، وہ 2027 میں ہمارے پاس واپس آئیں گے۔‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایونٹ کو غیر سیاسی ہونا چاہیے، اور یاد دلایا: ’یورو ویژن میں حکومتیں حصہ نہیں لیتیں، بلکہ یہ پبلک سروس براڈکاسٹرز اور فنکار ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ جمعرات کے اجلاس میں، ’یورپین براڈکاسٹنگ یونین‘ کے اراکین کے درمیان ’مکمل، کھلی، دیانتدارانہ اور کافی جذباتی بحث‘ ہوئی، اور ’جس بات پر وہ واقعی متفق ہوئے وہ یہ یقین ہے کہ یوروویژن سونگ کونٹیسٹ کو سیاسی اکھاڑے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

’اسے غیر جانبداری کا کچھ احساس برقرار رکھنا چاہیے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بیٹے سے کوئی غلطی ہوئی بھی تو اسے جلانا نہیں چاہیے تھا: والد

جمعہ دسمبر 5 , 2025
Share کراچی میں ڈکیتی کے الزام میں تشدد کے بعد زندہ جلائے گئے نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ’ڈکیت‘ نہیں تھا اور اگر اس سے کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو اسے زندہ نہیں جلانا چاہیے تھا۔ یکم دسمبر کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی […]

You May Like