پاکستان، چین کا سی پیک سمیت اہم شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق

Share

چین اور پاکستان نے اتوار کو بیجنگ میں ایک اعلیٰ سطحی سٹریٹجک مکالمے میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔

وزرائے خارجہ کا سٹریٹجک مکالمہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ ترین مشاورتی فورم ہے جو دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کا بھی جائزہ لینے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ساتویں پاکستان۔ چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک مکالمے کی مشترکہ صدارت کی۔

دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ’دونوں فریقوں نے پاکستان ۔ چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی سطح کے کلیدی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔‘

’سی پیک، تجارت، کثیرالجہتی تعاون اور عوامی سطح پر روابط کے بارے میں بھی آرا کا تبادلہ ہوا۔‘

پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ سٹریٹجک، سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق 2024 میں اس کی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت 23.06 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 11.1 فیصد زیادہ ہے۔ 

اسلام آباد بیجنگ کو ایک اہم سرمایہ کار سمجھتا ہے، جو گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سی پیک کے توانائی و انفراسٹرکچر منصوبوں کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

دفترِ خارجہ نے کہا ’ہمہ موسمی سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے توثیق کی کہ پاکستان۔چین دوستی خطے اور دونوں ممالک میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’انہوں نے دوطرفہ اور کثیرجہتی فورمز پر ہم آہنگی مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ 

’دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کو شایانِ شان طریقے سے منانے پر بھی اتفاق کیا۔‘

ڈار نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائیشنگ سے بھی ملاقات کی۔

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ’دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور مستقبل بینی پر مبنی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ پارٹی ٹو پارٹی روابط، علاقائی ترقیات اور سی پیک کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔‘

بعد ازاں پاکستانی نائب وزیراعظم نے چین کے ایگزیکٹیو نائب وزیراعظم ڈِنگ شُوی شیانگ سے بھی ملاقات کی۔ 

بیان کے مطابق، چینی عہدے دار نے چین کے بنیادی مفادات پر پاکستان کی مستقل حمایت کو سراہا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

طلبہ پر اے آئی کے استعمال کا غلط الزام انہیں کیسے متاثر کرتا ہے؟

اتوار جنوری 4 , 2026
Share جیسے جیسے مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی کا زیادہ حصہ بنتی جا رہی ہے، سکولوں کی اس حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے کہ طلبہ اپنے کام میں آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے اے آئی سے مدد لے رہے ہیں۔ سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، امریکہ […]

You May Like