پاکستانی عازمین کو آٹھ فروری تک سعودی بائیو میٹرک مکمل کرنے کی ہدایت

Share

پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے عازمین حج پر زور دیا ہے کہ وہ حج ویزے کے لیے لازمی سعودی بائیو میٹرک تصدیق آٹھ فروری تک مکمل کر لیں جب کہ حج کے عمل کی سخت نگرانی کے بعد 2026 کے حج کی تیاریاں بھی تیزی سے جاری ہیں۔

سعودی عرب نے حج 2026 کے لیے پاکستان کو ایک لاکھ 79 ہزار 210 عازمین کا کوٹہ دیا ہے، جس میں سے زیادہ تر نشستیں سرکاری سکیم کے تحت اور باقی پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے لیے مختص ہیں۔

گذشتہ سال بڑے پیمانے پر شکایات کے بعد پرائیویٹ حج آپریٹرز کے لیے ضوابط سخت کر دیے گئے ہیں اور ان کا کوٹہ کم کر دیا گیا ہے، کیوں کہ گذشتہ برس ہزاروں عازمین پرائیویٹ حج سکیم کے تحت سفر نہیں کر سکے تھے۔

پاکستانی وزارت مذہبی امور نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ حج ویزے کے اجرا کے لیے سعودی بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہے اور عازمین کو اسے ’سعودی ویزا بائیو‘ ایپ کا استعمال کرتے ہوئے گھر پر ہی مکمل کرنا چاہیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریڈیو پاکستان نے وزارت مذہبی امور کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ’بائیو میٹرک کے بغیر حج ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے، تاہم 80 سال سے زائد عمر کے عازمین بائیو میٹرک سے مستثنیٰ ہیں۔‘

پاکستان بدانتظامی کو کم کرنے کی کوششوں کے حصے کے طور پر حج 2026 سے قبل عازمین کے لیے ڈیجیٹل اور طریقہ کار کے تقاضوں پر بتدریج عمل درآمد کر رہا ہے، جن میں لازمی تربیتی سیشنز، بائیو میٹرک چیکس اور موبائل ایپلی کیشنز کا زیادہ استعمال شامل ہے۔

وزارت مذہبی امور کے مطابق جو عازمین موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق مکمل کرنے سے قاصر رہے، وہ آٹھ فروری سے پہلے نامزد سعودی ’تاشیر‘ سینٹرز کا دورہ کریں۔

ان مراکز کی تفصیلات پاکستان کی سرکاری حج موبائل ایپلی کیشن پر دستیاب ہیں۔ مزید کہا گیا کہ عازمین حج کی سہولت کے لیے تاشیر سینٹرز آج اور اتوار کو صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کھلے رہیں گے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ماہرین نے مصر میں ممی بنانے کے لیے استعمال ہونے والی خوشبوئیں تیار کر لیں

ہفتہ فروری 7 , 2026
Share سائنس دانوں نے قدیم مصر میں ممی بنانے کے عمل کے دوران استعمال ہونے والی خوشبوؤں کو دوبارہ تیار کرنے کے لیے نئے طریقے وضع کیے ہیں۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو مستقبل میں عجائب گھروں میں ایسے تجربات کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جن میں […]

You May Like