لیبیا کے قریب کشتی الٹنے سے 53 تارکین وطن لاپتہ

Share

بین الاقوامی تنظیم برائے تارکین وطن نے پیر کو بتایا کہ لیبیا کے ساحل کے نزدیک ربڑ کی کشتی الٹنے کے بعد 53 تارکین وطن، جن میں دو بچے بھی شامل تھے، جان سے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔ 

کشتی میں 55 افراد سوار تھے۔ تنظیم کے مطابق یہ کشتی جمعرات کو زاویہ سے روانہ ہوئی اور جمعے کو زوارہ کے قریب الٹ گئی۔ 

زاویہ اور زوارہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے مغرب میں واقع ساحلی شہر ہیں۔

آئی او ایم نے بتایا ’لیبیائی حکام کی تلاش اور بچاؤ کی کارروائی میں صرف دو نائجیرین خواتین کو بچایا جا سکا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے اپنے شوہر کو کھو دیا جبکہ دوسری نے کہا کہ اس نے اس المناک حادثے میں اپنے دو بچے کھو دیے۔‘

اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق 2025 میں صرف وسطی بحیرۂ روم میں 1,300 سے زیادہ تارکین وطن لاپتہ ہو چکے ہیں۔

صرف جنوری میں شدید موسم کے دوران متعدد ’خاموش‘ بحری حادثات میں کم از کم 375 افراد مارے گئے یا لاپتہ ہوئے، جبکہ سینکڑوں مزید اموات کے غیر ریکارڈ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایجنسی نے کہا ’اس حالیہ واقعے کے بعد 2026 میں اس روٹ پر مرنے والوں یا لاپتہ ہونے والے تارکین وطن کی تعداد کم از کم 484 ہو گئی ہے۔‘

جنوری کے وسط میں مشرقی لیبیا میں ایک اجتماعی قبر سے کم از کم 21 تارکین وطن کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ دو سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس گروپ کے 10 کے قریب زندہ بچ جانے والے افراد پر تشدد کے آثار تھے، جنہیں قید سے نجات ملنے کے بعد پایا گیا۔

دو دیگر سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کے دو روز بعد لیبیائی حکام نے ملک کے جنوب مشرقی شہر کفرہ میں واقع ایک خفیہ جیل سے 200 سے زائد تارکین وطن کو آزاد کرایا، جہاں انہیں غیر انسانی حالات میں رکھا گیا تھا۔

 

2011 میں نیٹو کی حمایت سے معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا جنگ اور غربت سے بھاگ کر یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے صحرا اور بحیرہ روم کے خطرناک راستوں کے ذریعے ایک اہم گزرگاہ بن چکا ہے۔

 

گذشتہ نومبر میں جینیوا میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران برطانیہ، سپین، ناروے اور سیرالیون سمیت کئی ممالک نے لیبیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حراستی مراکز بند کرے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو تشدد، بدسلوکی اور بعض اوقات قتل تک کا سامنا کرنا پڑتا

 ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اسلام آباد حملے کے بعد پاکستان کا اسرائیل پر عسکری پراکسیز کی حمایت کا الزام

پیر فروری 9 , 2026
Share پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں ایک جان لیوا خودکش حملے کے بعد پیر کو الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل پراکسیز کی حمایت اور پشت پناہی کر رہا ہے، جو اس خطے میں عسکریت پسند حملوں […]

You May Like