حکومت پاکستان کا منگل کو ایک وضاحتی بیان میں کہنا تھا کہ گذشتہ شب کابل میں اس کا ہدف عسکری و دہشت گردی کے اسلحہ اور سازوسامان کے ذخیرہ کرنے کا مقام کیمپ فینکس تھا، جوکہ ہسپتال سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اسلام آباد میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے یہ بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اصل ہسپتال ملٹری/دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے مقابلے میں کثیر المنزلہ عمارت پر ہے جس کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے لہذا فرق اور جھوٹ واضح ہے۔
پاکستان نے یہ سوال بھی پوچھا ہے کہ مبینہ منشیات کی بحالی کے مرکز کو کسی فوجی کیمپ میں مہلک گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی جگہ کے ساتھ کیوں قائم کیا گیا؟ یہ سوال بھی تاحال جواب طلب ہے۔
حکام کے مطابق وہ پہلی سرکاری پوسٹ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی ’منشیات بحالی مرکز‘ کو نشانہ بنایا گیا ہے کو بعد میں کیوں ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
اس سے قبل افغان طالبان نے منگل کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال پر پاکستان کی مبینہ فضائی کارروائی میں کم از کم 400 اموات ہوئی ہیں۔ پاکستان نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
طالبان ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال پر پاکستانی فضائی بمباری میں کم از کم 400 افراد مارے گئے جبکہ 250 زخمی ہوئے ہیں۔‘
تاہم پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایکس پر ہی اس افغان دعوے کو ’جھوٹ‘ پر مبنی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے اور ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
The Pakistani military regime carried out an airstrike at approximately 9:00 PM this evening on the Omid Addiction Treatment Hospital, a 2,000-bed facility dedicated to the treatment of drug addiction. As a result of the attack, large sections of the hospital have been destroyed,…
— Hamdullah Fitratحمدالله فطرت (@FitratHamd) March 16, 2026
عطا تارڑ نے کہا کہ ’پاکستان نے پیر کی رات فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کی معاونت کے ڈھانچے کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔‘
افغان طالبان کے ترجمان حمد اللہ فطرت نے ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ فضائی کارروائی پیر کی رات نو بجے کی گئی جس میں ’دو ہزار بستر والے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہسپتال کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا ہے اور بھاری جانی نقصان کا خدشہ ہے۔‘
تاہم اموات اور زخمیوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغان طالبان ترجمان کے اس دعوے پر پاکستانی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ دعویٰ ’حقائق کی غلط رپورٹنگ‘ ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے تکنیکی آلات کے ذخائر اور اسلحہ گوداموں سمیت فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کی معاونت کے ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا جو پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کے اہداف انتہائی درستگی کے ساتھ منتخب کیے گئے اور کارروائی بہت احتیاط سے کی گئی تاکہ کوئی ضمنی نقصان نہ ہو۔
17 March 2026
Pakistan’s Armed Forces successfully carried out precision airstrikes on the night of 16 March as a part of Operation Ghazab Lil Haq, targeting Afghan Taliban regime terrorism sponsoring military installations in Kabul and Nangarhar.
Technical support… pic.twitter.com/b8YJkGC0cv
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 16, 2026
’بحالی ہسپتال کے طور پر حقائق کو پیش کرنا دراصل سرحد پار دہشت گردی کی غیر قانونی حمایت کو چھپانے کے لیے جذبات بھڑکانے کی کوشش ہے۔‘
دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں طلوع نیوز کو بتایا کہ ’کابل پر پاکستانی فوجی حکومت کے حملوں کے جواب میں، اب اسلام آباد کے ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کا وقت نہیں ہے، بلکہ امارت اسلامیہ بدلہ لے گی۔‘
اس سے قبل چینی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ وہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہی ہے۔
افغانستان کے قومی کرکٹر راشد خان نے کابل پر پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی شرم ناک‘ فعل قرار دیا ہے۔
راشد خان نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں لکھا: ’شہریوں کے گھروں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات کو نشانہ بنانا، چاہے جان بوجھ کر ہو یا حادثاتی، ایک سنگین جنگی جرم ہے۔
’خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں معصوم لوگوں کی قیمتی جانوں کی بےحرمتی ایک دل دہلا دینے والا فعل ہے۔‘
I am deeply saddened by the latest reports of civilian casualties as a result of Pakistani airstrikes in Kabul. Targeting civilian homes, educational facilities or medical infrastructure, either intentional or by mistake, is a war crime. The sheer disregard for human lives,… pic.twitter.com/DbFRRh2qAJ
— Rashid Khan (@rashidkhan_19) March 16, 2026
انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سانحے کی ’مکمل تحقیقات‘ کریں اور ذمہ داروں کا احتساب کریں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔
پاکستانی وزیر اعظم کے خارجی میڈیا کے ترجمان مشرف زیدی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کرنے تک جاری رہیں گے۔
The addiction? The Afghan Taliban’s constant lies.
The cure? Pakistan’s counter terrorism operations.
The timeline? InshaAllah, as long as it takes for the elimination of terrorists and their infrastructure. https://t.co/zhKCS10JUU
Mosharraf Zaidi (@mosharrafzaidi) March 16, 2026
افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا جس میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اور اس کے بعد اس نے اپنی جوابی کارروائیاں شروع کیں۔

