لائیو اپ ڈیٹس |
ایران اپنی’جوہری اور میزائل صلاحیتوں‘ کو قومی اثاثے کے طور پر محفوظ رکھے گا: مجتبیٰ خامنہ ای
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا کہ تہران اپنی’جوہری اور میزائل صلاحیتوں‘ کو قومی اثاثے کے طور پر محفوظ رکھے گا۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری بیان سرکاری ٹی وی کے ایک اینکر نے پڑھ کر سنایا، جس میں انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ امریکیوں کی خلیج فارس میں واحد جگہ ’اس کے پانیوں کی تہہ‘ ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل کی صنعت پر دباؤ بڑھنا شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث اس کے تیل بردار جہاز سمندر میں نہیں جا پا رہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں مزید کہا: ’خدا کی مدد اور طاقت سے خلیج فارس کے خطے کا روشن مستقبل ایسا مستقبل ہو گا جس میں امریکہ نہیں ہو گا، بلکہ وہ اس کے عوام کی ترقی، آسائش اور خوشحالی کے لیے ہو گا۔‘
یہ بیان بھی ان کے دیگر بیانات کی طرح پڑھ کر سنایا گیا کیونکہ اطلاعات کے مطابق وہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے میں ان کے والد 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جان سے چلے گئے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’ہم اور خلیج فارس اور (خلیج) عمان کے پار ہمارے ہمسایے ایک مشترکہ تقدیر رکھتے ہیں۔ وہ غیر ملکی جو ہزاروں کلومیٹر دور سے وہاں لالچ اور بدنیتی کے ساتھ آتے ہیں، ان کی وہاں کوئی جگہ نہیں، سوائے اس کے پانیوں کی تہہ کے۔‘
ایک نازک جنگ بندی کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی ناکہ بندی کا مقصد ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے سے روکنا ہے تاکہ اسے اہم آمدنی سے محروم کیا جا سکے اور ساتھ ہی ممکنہ طور پر ایسی صورت حال پیدا کی جا سکے جس میں تہران کو تیل کی پیداوار بند کرنا پڑے کیونکہ اس کے پاس ذخیرہ کرنے کی کوئی جگہ ہی نہ ہو۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش نے ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے، کیونکہ اہم وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل اور پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ اس نے ان کے خلیجی اتحادیوں پر بھی دباؤ ڈالا ہے جو اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے اپنا تیل اور گیس برآمد کرتے ہیں۔
ایران کی ایک حالیہ تجویز کے تحت ملک کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کی تاریخ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ میں جانے کی ایک بڑی وجہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنا تھا جبکہ ایران طویل عرصے سے کہتا آیا ہے کہ اس کا پروگرام پرامن ہے، اگرچہ اس نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کیا، جو ہتھیاروں کے قریب درجے کی سطح ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان سے اشارہ ملتا کہ جوہری معاملات اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی۔
انہوں نے کہا: ’ملک کے اندر اور باہر موجود نو کروڑ باوقار اور باعزت ایرانی، ایران کی شناختی، روحانی، انسانی، سائنسی، صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں، نینو ٹیکنالوجی اور بایو ٹیکنالوجی سے لے کر جوہری اور میزائل صلاحیتوں تک کو قومی اثاثہ سمجھتے ہیں اور وہ ان کا اسی طرح تحفظ کریں گے جیسے وہ ملک کے پانیوں، زمین اور فضائی حدود کا تحفظ کرتے ہیں۔‘
ایران کا افزودہ یورینیم اصفہان ہی میں موجود ہے: آئی اے ای اے
اقوام متحدہ کے جوہری ادارے ’آئی اے ای اے‘ کے سربراہ رافیل گروسی نے خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کو بتایا ہے کہ ایران کا زیادہ تر انتہائی افژودہ یورینیم ممکنہ طور پر اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینیٹر میں ہی موجود ہے۔
جسے گذشتہ سال فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس سال امریکہ، اسرائیل جنگ میں نسبتاً کم شدت کے حملے ہوئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گروسی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ آئی اے ای اے کے پاس سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں جو حالیہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہیں اور مزید معلومات بھی مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔
گذشتہ جون میں اسرائیل کی جانب سے 12 روزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اصفہان میں آئی اے ای اے کے معائنے رک گئے تھے، جس دوران امریکہ نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری بھی کی تھی۔
گروسی کے مطابق، اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کا خیال ہے کہ ایران کا ایک بڑا حصہ انتہائی افزودہ یورینیم ’جون 2025 میں وہیں موجود تھا جب 12 روزہ جنگ شروع ہوئی، اور غالب امکان ہے کہ اب بھی وہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ادارہ اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکا کہ آیا وہ مواد اب بھی وہاں موجود ہے اور آیا آئی اے ای اے کی سیلیں (مہریں) برقرار ہیں یا نہیں، کیونکہ معائنہ نہیں کیا جا سکا۔ ’ہم امید کرتے ہیں کہ جلد یہ ممکن ہو سکے گا، اس لیے جو میں بتا رہا ہوں وہ ہمارا بہترین اندازہ ہے۔‘
سیٹلائٹ کمپنی ایئربس کی تصاویر کے مطابق 9 جون 2025 کو ایک ٹرک، جس میں 18 نیلے کنٹینرز تھے، اصفہان نیوکلیئر ٹیکنالوجی سینٹر کے ایک سرنگ میں داخل ہوتا دیکھا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کنٹینرز میں انتہائی افزودہ یورینیم موجود تھا، اور غالب امکان ہے کہ وہ اب بھی وہیں ہیں۔
گروسی نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے ایران کے دیگر جوہری مراکز، جیسے نطنز اور فورڈو کا بھی معائنہ کرنا چاہتا ہے، جہاں کچھ جوہری مواد موجود ہے۔
ایران جوہر عدم پھیلاؤ معاہدے کا رکن ہے، جس کے تحت اسے اپنی جوہری تنصیبات آئی اے ای اے کے معائنے کے لیے کھولنا ضروری ہے۔ گروسی کے مطابق، اس معاہدے کے تحت یہ ایران کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکمل تعاون کرے۔
تیل 4 سال میں بلند ترین سطح پر، امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششیں جاری
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق، امریکہ نے دیگر ممالک سے بھی آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں مدد کی اپیل دہرائی ہے۔
روئٹرز کے مطابق امریکہ ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ اسے آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔
دوسری جانب پاکسستانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سخت بیانات کے تبادلے کے دوران، پاکستان بطور ثالث کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اہلکار کے مطابق، ٹرمپ اور تیل کمپنیوں کے نمائندوں نے ان اقدامات پر بھی بات کی جو عالمی تیل منڈی کو مستحکم رکھنے اور اگر ضرورت پڑے تو ناکہ بندی کو کئی مہینوں تک جاری رکھنے کے لیے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ امریکی صارفین پر اس کے اثرات کو کم سے کم رکھا جائے۔
ایک سینئر پینٹاگون اہلکار کے مطابق، اس جنگ پر اب تک امریکی فوج کو تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں، جو اس تنازع کی لاگت کا پہلا سرکاری تخمینہ ہے۔
ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے، جس کے باعث بدھ کو تیل کی قیمتیں چار سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
تیل کی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی، جس کے خاتمے کا مطالبہ تہران کسی بھی معاہدے سے پہلے کر رہا ہے، بمباری سے زیادہ مؤثر ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق، منگل کو ہونے والی اس ملاقات میں ٹرمپ نے ’عالمی تیل کی منڈی کو مستحکم کرنے اور ضرورت پڑنے پر کئی ماہ تک موجودہ ناکہ بندی جاری رکھنے اور امریکی صارفین پر اس کے اثرات کم کرنے کے اقدامات‘ پر بات کی۔
اگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے خلاف بحری کارروائی کے بارے میں کہا کہ ’وہ بری طرح دباؤ میں ہیں، اور یہ ان کے لیے مزید خراب ہونے والا ہے۔‘
برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید 7.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 119.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 2022 میں یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
ایران نے حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی ہے، جو ایک تنگ آبی گزرگاہ ہے اور جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
ایران جنگ کا پہلے باضابطہ اختتام چاہتا ہے
ایران کی جانب سے جنگ کے حل کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز، جو 8 اپریل سے جنگ بندی معاہدے کے تحت معطل ہے، اس بات پر مبنی ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت کو اس وقت تک مؤخر رکھا جائے جب تک جنگ باضابطہ طور پر ختم نہ ہو جائے، بحری نقل و حمل کے مسائل حل نہ ہو جائیں۔
تاہم یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کے مطابق نہیں کہ جوہری مسئلے پر ابتدا ہی میں بات کی جائے۔
ایک پاکستانی ذرائع نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایرانی تجویز پر اپنے ’مشاہدات‘ شیئر کیے ہیں اور اب جواب دینا ایران کے ذمے ہے۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ایرانیوں نے ہفتے کے اختتام تک مہلت مانگی ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو امریکی حکام اور ایک باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کی ہدایت پر اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ یکطرفہ فتح کا اعلان کرتے ہیں تو ایران کس طرح ردِعمل دے سکتا ہے۔

