اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کو فون، امن کے لیے امید کا اظہار

Share

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں امن اور استحکام کے لیے امید کا اظہار اور باہمی دلچسپی کے امور پر دو طرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق: ’دونوں رہنماؤں نے ایران اور وسیع تر خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسحاق ڈار نے امن اور استحکام کے لیے امید کا اظہار کیا، جبکہ دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر دو طرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

پاکستانی اور ایرانی وزرائے خارجہ میں یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ایران میں حالیہ ہفتوں میں ملک گیر حکومت مخالف احتجاج ہوئے۔

ایران دسمبر کے اواخر سے احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ احتجاج کی شروعات تو معاشی حالات اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے ہوئی لیکن پھر یہ مطالبات بڑھتے گئے اور نظام کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی حکام نے گرفتاریوں، طاقت کے استعمال، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند کرنے کر کے اس احتجاج پر قابو پانے کی کوشش کی جس کے بارے میں انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد احتجاج کی کوریج کو محدود کرنا ہے جبکہ کریک ڈاؤن کے دوران دو ہزار سے زائد اموات کی بھی رپورٹس سامنے آئیں۔

پاکستان کی جنوب مغرب میں ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ ایران کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والے پرتشدد مظاہروں کے پیش نظر پاکستان نے ایران کی سرحد سے متصل اضلاع میں سکیورٹی بڑھانے سمیت صورت حال کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے نگرانی سخت کردی تھی۔

اس سے قبل پاکستان نے احتجاج سے منسلک حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا اور انہیں پھانسیاں دیں تو وہ تہران پر حملہ کر دیں گے۔

ایرانی حکام کی جانب سے بھی ہر قسم کی صورت حال کے لیے ’تیاری‘ کا عندیہ دیا گیا۔

تاہم بعدازاں دونوں طرف سے بیانات میں نرمی لائی گئی اور واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے ان پھانسیوں پر عمل درآمد نہیں کیا، جو ان کے بقول سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو دی جانی تھیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بلوچستان کی گھروں میں بننے والی لاندی اب کوئٹہ کے ریستوران میں

ہفتہ جنوری 17 , 2026
Share بلوچستان میں سردی سے بچنے کے لیے کھایا جانے والا خشک گوشت جسے مقامی زبان میں لاندی کہا جاتا ہے، اب کوئٹہ کے ریستوران میں بھی دستیاب ہے۔ لاندی کو خشک کرنے کا عمل مہینوں پر محیط ایک دشوار مرحلہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ عموماً گھروں میں […]

You May Like