غزہ کے الناصر ہسپتال پر گھناؤنا حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی: پاکستان

Share

پاکستان نے غزہ کے علاقے خان یونس میں الناصر ہسپتال پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں چار صحافیوں اور امدادی کارکنوں سمیت کم از کم 21 افراد جان سے گئے تھے۔  

25 اگست، پیر، کو غزہ کے جنوبی علاقے میں الناصر ہسپتال اسرائیل نے حملے کیے تھے۔

 

اسلام آباد میں پاکستان کی وزارت خارجہ سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کہا گیا کہ ’ایک طبی سہولت پر یہ غیرذمہ دارانہ اور گھناؤنا حملہ، شہریوں اور صحافیوں کو مسلسل نشانہ بنانا، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قانون کے علاوہ آزادی صحافت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم عالمی برادری سے اپنے اس مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کو ایسے گھناؤنے جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے اور اسرائیل کے استثنیٰ کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

’پاکستان بھی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے منافی اسرائیلی قابض افواج کی شامی عرب جمہوریہ میں دراندازی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔‘

پاکستان نے شام کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری سے اسرائیل کو پورے خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے روکنے کا مطالبہ کیا۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے پیر کو بتایا تھا کہ غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس میں الناصر میڈیکل کمپلیکس پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 20 افراد جان سے گئے تھے، جن میں صحافی اور امدادی کارکن بھی شامل تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الناصر پر حملے میں قتل ہونے والے صحافیوں میں انڈپینڈنٹ عربیہ کی صحافی مریم ابو دقه بھی شامل تھیں۔

انڈپینڈنٹ عربیہ نے مریم ابو دقہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اسرائیلی دھماکہ خیز ڈرون نے ہسپتال کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایک اور فضائی حملہ اس وقت کیا گیا جب زخمیوں کو وہاں سے نکالا جا رہا تھا۔

منگل کو حماس نے اس اسرائیلی بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ کے ایک ہسپتال پر حملہ، جس میں متعدد صحافی بھی جان سے گئے، حماس کی جانب سے چلائے جانے والے ایک کیمرے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ 

حماس نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا: ’اسرائیل نے اس جرم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ جھوٹا دعویٰ گھڑا، یہ الزام بے بنیاد ہے، کوئی ثبوت نہیں ہے، اور صرف قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایک قتل عام پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

جعلی ڈگری کیس: سپریم کورٹ کا استاد کیخلاف خیبر پختونخواہ حکومت کو ریکارڈ جمع کرانے کا حکم

بدھ اگست 27 , 2025
Share سپریم کورٹ آف پاکستان نے استاد کی جعلی ڈگری سے متعلق کیس میں ٹیچر صفت اللہ کیخلاف خیبر پختونخواہ حکومت کو ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو نوکری دینے سے پہلے ڈگری کی تصدیق کرنی چاہیے تھی،  ڈگری کی تصدیق کرانے مین […]

You May Like