کشیدگی سے گریز، خطے میں تحمل اور دہشت گردی کے خاتمے کا عزم: کور کمانڈرز کانفرنس

Share

کور کمانڈرز نے منگل کو خطے میں ’تحمل اور کشیدگی میں اضافے سے گریز‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ’علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار اور صورت حال کی مزید خرابی کو روکنے کی کوششوں کی حمایت‘ کو تسلیم کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے منگل کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 275ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔

کانفرنس کے دوران اس بات کو دہرایا گیا کہ ’خطے میں امن و استحکام اجتماعی تحمل، ذمہ داری اور خودمختاری کے احترام سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

بیان کے مطابق فورم نے موجودہ داخلی اور خارجی سکیورٹی ماحول کا جامع جائزہ لیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ’دہشت گرد نیٹ ورکس کو فیصلہ کن طور پر ختم کرنے، ان کے معاون ڈھانچے کو تباہ کرنے اور پاکستان میں انہیں کسی بھی قسم کی آپریشنل گنجائش سے محروم رکھنے کے لیے موجودہ آپریشنل رفتار کو برقرار رکھا جائے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فورم نے آپریشن غضب للحق کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کی مسلسل کمزوری کو تسلیم کیا اور نوٹ کیا کہ ’افغان طالبان حکومت کی غیر معقول اور غلط پالیسی، جس کے تحت خوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں اور افغان عوام کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے، الٹا اثر ڈال رہی ہے اور پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔‘

بیان کے مطابق اس موقعے پر طالبان حکومت کی جانب سے جاری حالیہ پروپیگنڈا مہم کے رجحان کا بھی نوٹس لیا، جس میں پاکستان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان کے اندر شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ’جس کا مقصد اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور مظلومیت کا تاثر دینا ہے۔‘

 فورم نے ان بے بنیاد الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ’پاکستان کی دفاعی کارروائیاں مرکوز، درست اور صرف دراندازوں، دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاون ڈھانچوں کے خلاف ہیں۔‘

قوم اور مسلح افواج کو معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر مبارک باد دیتے ہوئے کور کمانڈرز نے کہا کہ ’معرکۂ حق کی قومی سطح پر یاد منانا انڈیا کی متکبرانہ سیاسی ذہنیت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد، مضبوط اور مکمل طور پر تیار ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’یہ عوام، حکومت اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے، جو تمام داخلی و خارجی چیلنجز کے مقابلے میں بنیان مرصوص کی طرح متحد کھڑی ہے۔‘

کانفرنس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور آبادیاتی تبدیلیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی ’غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت‘ کا اعادہ کیا۔

چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر نے پاکستان کی مسلح افواج کی آپریشنل تیاری، پیشہ ورانہ معیار اور جنگی صلاحیت کے اعلیٰ معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کمانڈرز کو ہدایت دی کہ ’بدلتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اعلیٰ ترین سطح پر چوکس رہیں اور آپریشنل تیاری اور موافقت برقرار رکھیں۔‘

انہوں نے ’پیشہ ورانہ مہارت، مربوط ردِعمل کے نظام اور روایتی و غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فعال اقدامات پر مسلسل توجہ کی ضرورت پر زور دیا۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پاکستانی پاسپورٹ اجرا سروسز بحال، مسئلہ ’فنی خرابی‘ یا ’عملے کی تنخواہوں میں تاخیر؟‘

منگل مئی 5 , 2026
Share دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ اجرا سروسز آج چار روزہ تعطل کے بعد بحال کر دی گئی ہیں۔ پاکستان پاسپورٹ آفس کا کہنا ہے کہ یہ تعطل ٹیکینیکل خرابی تھی جب کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشن میں کام کرنے والے اہلکار تنخواہوں میں تاخیر کو اصل مسئلہ بتا رہے […]

You May Like